10:55 am
 جس کی اہلیہ نے بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا

جس کی اہلیہ نے بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا

10:55 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب کا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نہیں بلکہ وہ ہے جس کی اہلیہ نے بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا، سنسنی خیز انکشاف ۔۔۔صحافی اعزاز سید نے اپنے حالیہ کالم میں کہا کہ بعض حلقوں کے مطابق اگرمولانا فضل الرحمان کو روکنے کی کوششوں نے پُرتشدد رنگ اختیار کر لیا اور چند لاشیں بھی گر گئیں تو معاملہ اتنی شدت اختیار کر سکتا ہے کہ تمام سیاسی و غیر سیاسی قوتوں کی سوچیں بدل جائیں اور پارلیمنٹ کے اندر سے ایک نئی تبدیلی رونما ہو جائے۔ اعزاز سید کے مطابق ایک ممکنہ صورت پنجاب کے وزیراعلیٰ کی ممکنہ تبدیلی کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اسے حُسن اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ مولانا کے آزادی مارچ سے قبل ہی بہت سے حلقے پنجاب کے طرزِ حکومت سے نالاں ہیں۔پنجاب کی بیورو کریسی میں یہ بات مشہور ہے کہ اصل وزیراعلیٰ عثمان بزدار نہیں بلکہ کوئی اور شخص ہے۔ وہی شخص جس کی اہلیہ نے بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب بنوانے میں مبینہ طور پر اہم کردار ادا کیا تھا۔ بزدار وزیراعلیٰ تو بن گئے مگر ابھی تک پنجاب میں ن لیگ کا زور توڑ سکے نہ ہی کوئی بڑا کام کر سکے۔ اس بار احتجاج کا نشانہ تو عمران خان ہی ہیں لیکن کہیں حالات خراب ہوئے تو یہ معاملہ بزدارکے استعفیٰ پر ہی منتج ہو سکتا ہے۔انہوں نے اپنے کالم میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو کسی کا ساتھ حاصل ہے یا نہیں؟ اس بات کا سُراغ لگانے کے لیے ایک پیمانہ میڈیا بھی ہے۔ اس وقت مولانا فضل الرحمان پر میڈیا میں غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی ہے۔ ان کا انٹرویو کسی ٹی وی پر نہیں چل سکتا۔ ٹی وی چینلز کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دھرنے کی کوریج سے گریز کریں۔ لیکن اس تمام کے باوجود 3 اکتوبر کو جب مولانا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرکے آزادی مارچ کا اعلان کیا تو حیران کن بات یہ تھی کہ اس شام اکثر ٹی وی چینلز مولانا کی اس پریس کانفرنس کو براہِ راست نشر کر رہے تھے۔ دوسرا یہ کہ ٹی وی چینلز پر بعض چہرے اچانک وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے خلاف ہو گئے ہیں جو سوچنے کی بات ہے۔ یہ سوچ کی تقسیم کی علامت ہے۔

تازہ ترین خبریں