02:25 pm
فضل الرحمن تو صرف فرنٹ مین نکلے، پوری گیم کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے

فضل الرحمن تو صرف فرنٹ مین نکلے، پوری گیم کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے

02:25 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)فضل الرحمن تو صرف فرنٹ مین نکلے، پوری گیم کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے، ایسا نام سامنے آگیاکہ حکومتی صفوں میں پریشانی کی لہردوڑ گئی۔۔۔نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کار صابر شاکر نے کہا کہ اب بہت سی چیزیں کُھل کر سامنے آ رہی ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اور حافظ حسین احمد خود چیزوں سے پردہ اُٹھا رہے ہیں۔ لگتا یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان صرف ایک فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہے ہیں
جبکہ ماسٹر مائنڈ نواز شریف ہیں۔مولانا فضل الرحمان نے خود کہا ، بالکل اُسی طریقے سے جیسے حاصل بزنجو نے کہا تھا۔ تب ہوا یہ تھا کہ رہبر کمیٹی کا اجلاس چل رہا تھا اور سب انتظار کررہے ہیں اور آپس میں بحث کر رہے تھے کہ چیئرمین سینیٹ کا اُمیدوار کون ہو گا۔ اتنے میں شاہد خاقان عباسی آئے اور انہوں نے کہا کہ جیل سے پیغام آ گیا ہےچیئرمین سینیٹ کے اُمیدوار میر حاصل بزنجو ہوں گے۔ٹھیک وہی بات مولانا فضل الرحمان نے میڈیا ٹاک میں کی کہ اجلاس جاری تھا اور بحث ہو رہی تھی کہ مسلم لیگ ن نے احتجاج میں شامل ہونا ہے یا نہیں اور اتنے میں کیپٹن (ر) صفدر کا فون آ گیا کہ نواز شریف کا جیل سے پیغام آ گیا ہے کہ ہم نے شرکت کرنی ہے۔ صابر شاکر نے کہا کہ حافظ حسین احمد نے ایک اور انکشاف کیا کہ جب جاتی امرا میں نواز شریف ضمانت پر تھے ، اُس وقت مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کی جاتی امرا میں ملاقات ہوئی تھی، اُس میں ہی طے ہو گیا تھا۔یہ سب چیزیں ریکارڈ پر ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ پاکستان پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ گئی ہے کیونکہ اُن کو اس بات کا علم ہو گیا ہے کہ یہ تو سارا پراجیکٹ ہی نواز شریف کا ہے ، اس کے پیچھے نواز شریف اور مریم نواز کا ہاتھ ہے اسی لیے اس سے جتنا بھی فائدہ ہو گا ان کو ہی پہنچے گا۔ اس کا کریڈٹ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان لیں گے۔صابر شاکر کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد حکومت گرانا نہیں ہے۔ان کا مقصد یہ ہے کہ صورتحال کو اس نہج پر پہنچا دیا جائے کہ فوج کو مداخلت کرنا پڑے اور مارشل لاء لگ جائے کیونکہ پانامہ سے لے کر اب تک یہ لوگ یہی کوششیں کر رہے ہیں۔ باہر جا کر بھی سفارتکاروں سے جو ملاقاتیں ہوتی ہیں اُن میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ ان کو آگے سے جواب ملتا ہے کہ پارلیمنٹ موجود ہے ، جمہوریت ہے اور عدلیہ کام کر رہی ہے ۔لہٰذا جب تک یہ لوگ ملک میں کوئی غیر معمولی سرگرمی نہیں کرواتے ان کا بیانیہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ اس کے علاوہ کیپٹن (ر) نے بھی کہہ دیا ہے کہ یہ ووٹ کو عزت دو کا پارٹ ٹو ہے۔ اس میں پیپلز پارٹی کا تو کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے اجلاس میں بھی یہی باتیں ہو رہی ہیں۔ اب جیسے میر حاصل بزنجو ہار گئے اور صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ کے عہدے پر برقرار رہے ، پیپلز پارٹی نے ہی صادق سنجرانی کو بچایا تھا، کیونکہ میر حاصل بزنجو برملا کہتے تھے کہ میں نواز شریف کا اُمیدوار ہوں۔ ان سب باتوں کے بعد یہ بات کوئی ڈھکی چُھپی نہیں رہی کہ دھرنا اور احتجاج نواز شریف کا پائلٹ پراجیکٹ ہے۔