06:03 pm
پشاور میں ریپڈ بسیں تو نہ چل سکیں لیکن سائیکلیں ضرور چلیں گیں

پشاور میں ریپڈ بسیں تو نہ چل سکیں لیکن سائیکلیں ضرور چلیں گیں

06:03 pm

پشاور(نیوز ڈیسک)پشاور کے بی آر ٹی منصوبے پر اب سائیکلیں چلیں گی۔ تفصیلات کے مطابق پشاور میں ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کے لیے بسیں چلنے کا آغاز تو نہ ہوسکا لیکن چین سے سائیکلیں منگوالی گئی ہیں۔صوبے کے میگا پراجیکٹ بی آر ٹی کے لیے 360 سائیکلیں چین سے پشاور منگوائی گئی ہیں، یہ سائیکلیں ''زو'' نام سے متعارف کی گئی ہیں جس کے معنی پشتو زبان میں ''چلو'' کے ہیں۔ان سائیکلوں کو بی آر ٹی پر سفر کرنے والے مسافر استعمال کرسکیں گے
جس کا کرایہ بھی بہت کم ہوگا۔ تمام 360 سائیکلوں کی اونچائی مسافروں کی ضروریات کے مطابق بآسانی ایڈجسٹ کی جا سکتی ہے۔ کم روشنی کے دوران ان میں خود کار ایل ای ڈی لائٹس اور ریفلیکٹرز بھی موجود ہیں۔سائیکلوں کی سکیورٹی کے لئے سائیکل اسٹیشن پر سی سی ٹی وی کیمروں کے ساتھ ساتھ نگرانی کے لئے عملہ بھی موجود ہو گا۔زو سائیکل کرائے پر لینے اور واپس کرنے کے لئے مسافر وہی زو سمارٹ کارڈ ،موبائل ایپ استعمال کریں گے جو وہ بسوں میں سفر کے لئے استعمال کریں گے۔ ‏ان سائیکلوں میں step-through فریم ہیں جو یہاں کی ثقافتی اقدار کے مطابق ہیں جس میں خواتین آسانی سے سفر کر سکے گے یہ سائیکلیں چین کے بغیر اور ہوا کے بغیر ٹائروں پر مشتمل ہیں جس کی وجہ سے ان میں ٹائر پنکچر ہونے کے مسائل بھی نہیں ہوں گے۔اس حوالے سے ٹرانزٹ ترجمان نعمان منظور نے بتایا کہ زو سائیکلوں کو منگوانے کا مقصد ہے کہ جب مسافر اے سی اور وائی فائے والی بس سے اترے تو اپنی حتمی منزل تک صحت مند طریقے سے پہنچے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ ان سائیکلوں کے ٹائرز میں ہوا نہیں ہے کیونکہ یہ خاص سولڈ ربڑ ٹائرز ہیں جس کے تحت یہ زیادہ وزن برداشت کرسکتے ہیں، ساتھ ہی یہ پنکچر بھی نہیں ہوں گے اور نہ ہی ٹائر پانی میں خراب ہوں گے۔ اس کے علاوہ زو سائیکل میں چین نہیں ہے جس کی وجہ سے کپڑے پھسنے کا خدشہ بھی نہیں ہوگا اس کے علاوہ اسے مرد حضرات اور خواتین دونوں استعمال کرسکتے ہیں۔