06:14 pm
سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر حائل رکاوٹیں

سی پیک کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر حائل رکاوٹیں

06:14 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پاکستان اور چین نے سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کر نے کا فیصلہ کرلیا ۔ ہفتہ کو چینی وزیر ٹرانسپورٹ کی قیادت میں پاکستان آئے وفد نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید سے ملاقات کی جس میں سی پیک منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مغربی روٹ پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپ کی مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے گئے ،
دوسرے مرحلہ میں مغربی روٹ پر 1270 کلو میٹر کی شاہراہیں تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ گلگت سے چترال اور ڈی آئی خان سے ڑوب تک شاہراہیں تعمیر ہوں گی، پشاور تا ڈی آئی خان اور سوات ایکسپریس وے فیز ٹو سمیت کراکرم ہائی وے پر بھی کام ہوگا۔چینی وفد نے کہاکہ منصوبے کی بر وقت تکمیل کے لئے وزارت مواصلات نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا،چینی وفد نے پاکستانی حکومت کی مہمان نوازی کو بھی سراہا۔چینی وزیر نے کہاکہ سی پیک سے دونوں ممالک کی آئندہ نسلیں بھی مستفید ہوں گی، دونوں ملکوں کی قیادت نے منصوبے کی بروقت تکمیل کے عزم کا اظہار کیا ہے۔وزیر مواصلات مراد سعید نے چینی انجینئرز کی محنت،عزم اور پیشہ وارانہ مہارت کو سراہا۔مراد سعید نے کہاکہ سی پیک کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اولین ترجیح ہے،سی پیک سے ملازمتوں کے مواقع،انفراسٹرکچر اور مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا۔وزیر مواصلات نے سی پیک اتھارٹی کے قیام سے متعلق بھی چینی وفد کو آگاہ کیا۔وزیر مواصلات نے کشمیر کے معاملہ پر چینی حکومت کی حمایت پر اظہار تشکر کیا۔مراد سعید نے کہاکہ معاشی و اقتصادی ترقی سمیت غربت کیخاتمہ کے لیے چین ایک رول ماڈل ہے۔وفد کو سی پیک کے دوسرے مرحلہ میں زراعت،سیاحت اور غربت کے خاتمہ میں ترجیحات سے بھی آگاہ کیا۔