06:31 pm
آزادی مارچ،مولانانے ڈیل کااشارہ دیدیا

آزادی مارچ،مولانانے ڈیل کااشارہ دیدیا

06:31 pm

راولپنڈی (آن لائن )جمعیت علماء اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ اگرپر امن آزادی مارچ پر تشدد کا راستہ اختیار کر کے ہمارا آئینی و قانونی حق چھیننے کی کوشش کی گئی تو ہم آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں انتقام کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اس صلاحیت کا بھر پور استعمال کریں گے ہم پر امن ہیں اور اداروں سے تصادم نہیں چاہتے حکومت کی جانب سے ہمیں مذاکرات کی کوئی پیشکش نہیں کی گئی اگر فوج کی جانب سے رابطہ کیا گیا
تو ہم منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے کیونکہ فوج ہم سب کی ہے لیکن قوی امکان ہے فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی فوج نے سیاسی معاملات میں غیر جانبداری کا فیصلہ کر لیا ہے اور فوج کبھی عوام سے تصادم اختیار نہیں کرے گی ہم ووٹ چوری کر کے قوم پر کسی کو جبری مسلط نہیں ہو نے دیں گے ہم نے پہلے دن سے ان حکمرانوں کے حق حکمرانی سے انکار کیا تھا اور ان کا حق حکمرانی تسلیم نہیں کرتے لہٰذا حکومت کو فوری طور پر مستعفی ہونا ہو گاان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ شام جامعہ اسلامیہ صدر میں پریس کانفرنس کے دوران کیا اس موقع پر جمعیت علما اسلام کے جنرل سیکریٹری مولانا عبد الغفور حیدری بھی ان کے ہمراہ تھے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس وقت پوری قوم ناجائز اور نااہل حکومت کو چلتا کرنے کے لئے متحد ہو کر اسلام آباد مارچ کے لئے پر عزم ہے27اکتوبر پورے ملک میں یوم یکجہتی کشمیر کے تحت یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے البتہ دور دراز کے علاقوں سے قافلے اسی روز اسلام آّباد کی جانب سفر کا آغاز کر دیں گے اور31اکتوبرکو یہ آسزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہو گا انہوں نے آزادی مارچ کی حمائیت پر تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور طبقات کا شکری ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسے مواقع کم آتے ہیں کہ جب پوری قوم حکومت کے خلاف اس قدر یکجہتی کا مظاہرہ کرے انہوں نے کہا کہ ہم آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کسی بھی قومی ادارے سے تصادم سے احتراز کرتے ہوئے پر امن احتجاج کے لئے اسلام آباد آرہے ہیں ہم نے اب تک 15کامیاب ملین مارچ کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ہم پر امن ہیں اور اداروں سے تصادم نہیں چاہتے اور حکومت کو بھی واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ عقل کے ناخن لے اگر تشدد کا راستہ اختیار کر کے ہمارا آئینی و قانونی حق چھیننے کی کوشش کی گئی یا انسانی حقوق پامال کئے گئے تو ہم آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسوں انتقام کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم اس صلاحیت کا بھر پور استعمال کریں گے کوئی بھی ادارہ ہمارے پر امن جذبات کو کمزوری نہ سمجھے یہ ملک ہم سب کا ہے اور آئین پاکستان ہم سب کے درمیان میثاق ملی ہے ہم ووٹ چوری کر کے قوم پر کسی کو جبری مسلط نہیں ہو نے دیں گے ہم نے پہلے دن سے ان حکمرانوں کے حق حکمرانی سے انکار کیا تھا اور ان کا حق حکمرانی تسلیم نہیں کرتے لہٰذا حکومت کو فوری طور پر مستعفی ہونا ہو گا انہوں نے کہا کہ آج گریب آدمی کی قوت خرید جواب دے چکی ہے مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے نوجوانوں کو1کروڑ نوکریاں دینے کا دعویٰ کرنے والوں نے 1سال میں20لاکھ نوجوانوں کو بے روزگار کیا البتہ پورے سال میں صرف2افراد جن میں گورنر سٹیٹ بنک اور چیئر مین ایف بی آر شامل ہیں بیرون ملک سے ملازمت کے لئے پاکستان آئے اور یہ دونوں آئی ایم ایف کے نمائندے ہیں ہم نے ہمیشہ دوہری شہریت کے حامل بین الاقوامی ادروں کے ملازمین پر تحفظات کا اظہار کیا کیونکہ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ انہیں پاکستان کا مفاد عزیز ہے یا بیرونی مفادانہوں نے کہا کہ نااہل حکومت کی وجہ سے ملک کا مستقبل تاریک نظر آرہا ہے ملکی معیشت گر چکی ہے پورے ملک کی تاجر برادری احتجاج پر ہے ملکی تاریخ کی کامیاب ترین ہڑتال تاجروں نے کی اور اب ایک بار پھر تاجر برادری ملکی سطح پر ہڑتال کی طرف جا رہی ہے کیونکہ ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کئے جا رہے انہوں نے کہا کہ ہماری خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے کوششوں کے باوجود حکمران امریکی اعتماد بھی حاصل نہیں کر سکے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میںامریکہ نے پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر کو پہلی بار نظر انداز کیادوست ممالک نے ہمیں ووٹ نہیں دیا،ہمارے ری جیکٹڈ وزیر اعظم مودی کی کامیابی کی دعائیں کر رہے تھے،یہ سونامی سے سمندر پر آئے اب صحرا بن جائیں گے مگر مچھ کے کے آنسو بہانے کی ضرورت نہیں ہے یہ حکمران کشمیر فروش ہیں انہوں نے کشمیر کا سودا کیا ہے کابینہ کے ہمراہ وزیر اعظم کے حالیہ دورہ چین میںپاکستان چین سے مایوس ہو کر واپس آیا ہے ترلے کرکے 20منٹ ملاقات کا وقت لیا گیا،سی پیک کمیٹی کو آرڈی نینس کے ذریعے مسلط کیا گیا،ایسے قدامات کے ذریعے چین جیسے دوست کے اعتماد کا نقصان پہنچایا ہے،حکمرانوں کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہیے اور مستعفی ہو جائیں،ہمارے پاس ن لیگی قیادت کے دو حصوں میں تقسیم ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہے ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہو،حکومت تنہا ہوتی اور دلدل میں پھنستی چلی جا رہی ہے ہم نے 15ملین مارچ کرکے سیاسی جماعتوں کا کفارہ ادا کیا ہے،اب حقیقی طور پر پبلک آئے گی اس بات کی پریشانی ہے،ماضی میں ایک جائز حکومت کو گرامی کی سازش ہوئی تھی جسکو ساری اپوزیشن نے ملکر ناکام بنایا تھا، مولان فضل الرحمان نے کہا کہ امپائر کون ہوتا ہے اسکی وضاحت کریں تو بات کروں گادھرنے کے خلاف یہ لوگ ہائی کورٹ گئے لیکن انکا درخواست مسترد کر دی گئی بات ختم ہو گئی جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ کوئی مولانا فضل الرحمن کو تنہا نہ سمجھے شہزادی اور شہزادہ دونوں پاکستان آئیں انہوں نے300 سال تک یہاں حکمرانی کی اور محرومی پیدا کی اس پر معذرت بھی کریںاپنے مطالبات اور اہداف متعین کرلیئے ان میںکوئی تبدیلی نہیں آئے گی،اگر کوئی مفاہمت کے لئے آگے تو منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے ،ہم جو اپنی حکمت عملی بنائیں گے وہ عمران خان کے دھرنے سے بالکل مختلف ہوگی،پہلے کہتے تھے حلوہ پیش کریں گے بریانی دیں گے اب کہتے ہیں کہ سڑکوں سے گزرنے نہیں دیں گے،اسلام آباد پہنچ کر بتائیں گے ہم نے کتنے دن بیٹھنا ہے تحریک مل کر چلائی جاتی ہیں جو حالات اس وقت ملک میں بن چکے ہیں یہ بتا رہے ہیں کہ مقصد حاصل ہوجائے گاانہوں نے کہا کہ ہمارا احتجا ج پی ٹی آئی طرز کا نہیں ہو گا انہوں نے کہا کہ ہم سے امپائر کا پوچھنے والے پہلے امپائر کی وضاحت کر دیں کہ وہ کون ہوتا ہے اگر فوج کی جانب سے ہم سے کوئی رابطہ کیا گیا تو ہم منفی رویہ اختیار نہیں کریں گے کیونکہ فوج ہم سب کی ہے لیکن قوی امکان ہے فوج سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی فوج نے سیاسی معاملات میں غیر جانبداری کا فیصلہ کر لیا ہے اور فوج کبھی عوام سے تصادم اختیار نہیں کرے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ہمیں مذاکرات کی قطعی کوئی پیشکش نہیں کی گئی اب ہم تحریک کے لئے چل پڑے ہیں اور جب تحریک چلتی ہے تو قدم قدم پر فیصلے ہوتے ہیں اور تحریک کے فیصلے پر پہلی بار ساری اپوزیشن ایک پیج پر ہے ہم نے قوم کو ایک بیانیہ دیا تھا کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی کے ذریعے مینڈیٹ چوری کیا گیا ہم تمام سیاسی جماعتوں کا کفارہ ادا کرنے نکلے ہیں