06:34 pm
شادی کے لیے لڑکیوں کی کم سے کم عمر18سال ،بڑااقدام اٹھالیاگیا

شادی کے لیے لڑکیوں کی کم سے کم عمر18سال ،بڑااقدام اٹھالیاگیا

06:34 pm

لاہور (آن لائن) مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل نے لڑکیوں کی شادی کی عمر کم از کم 18سال مقرر کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرادی۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں 12اکتوبرکم عمر بچیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔پاکستان میں آج بھی صدیوں پرانی فرسودہ راویت چل رہی ہے۔18سال سے کم عمر بچیوں کی شادیاں معمول بن چکی ہیں۔سکول جانے کی عمر میں بچیوں کی شادی ایک بچی سے زیادتی کے زمرے میں آتی ہے۔لڑکی کے بالغ ،تعلیم یافتہ اور با اختیار ہونے تک شادی ممکن نہیں۔
کم عمری میں بچیوں کی شادی ایک پوری نسل کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔لہذا یہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ لڑکیوں کی کم از کم شادی کی عمر 18سال مقرر کی جائے۔ لڑکیوں کے خلاف ہرقسم کے امتیاز، منفی رسومات، متعصانہ رویوں اور رواجوں کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ چائلڈ میرج ایکٹ پر نظر ثانی کرکے اسے موثر بناکراس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اسلام فرسودہ رسوم و رواج کے تحت بچیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والے کسی بھی طرح کے ظلم کی قطعاً حمایت نہیں کرتا