08:01 am
 حکومت نے گزشتہ3 ماہ میں کوئی قرض نہیں لیا

حکومت نے گزشتہ3 ماہ میں کوئی قرض نہیں لیا

08:01 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وفاقی مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ حکومت نے گزشتہ3 ماہ میں کوئی قرض نہیں لیا، مالی معاملات چلانے کیلئے گزشتہ 3 ماہ میں کوئی سپلیمنٹری گرانٹ بھی نہیں لی، اگر حکومت قرض لیتی تو مہنگائی مزید بڑھ جاتی، کرنسی میں استحکام کے باعث پٹرول کی قیمت نہیں بڑھائی، بیرونی سرمایہ کاری میں34 کروڑ ڈالرکا اضافہ ہوا۔انہوں نے آج یہاں چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں عوام کے فائدے کے لیے کررہے ہیں۔ منی لانڈرنگ کوروکنا ہمارے مفاد میں ہے۔ ہم یواےای کویہ نہیں کہہ رہے کہ اقامہ پالیسی بدلے۔
ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ حکومت کا خیال ہے کہ برآمدی شعبے میں دیگرشعبوں کوشامل کیا جائے۔حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ ہرشعبے کی مدد کرے۔ بیرونی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمت اس لیے نہیں بڑھی کیونکہ کرنسی میں استحکام آیا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں34 کروڑ ڈالرکا اضافہ ہوا ہے۔ پی ایس ڈی پی میں گزشتہ سال کی نسبت زیادہ پیسے جاری کیے گئے۔ اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائززپرآئندہ2 ہفتوں میں پالیسی آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ معیشت کے مشکل فیصلوں سے بہتری آرہی ہے۔ رواں سال میں تجارتی خسارہ9 ارب ڈالرسے کم ہوکر5.7 ارب ڈالرہوگیا۔ ڈاکٹرعبد الحفیظ نے کہا کہ گزشتہ3 ماہ میں340 ملین ڈالرکی سرمایہ کاری آئی ہے۔ پاکستان کی معیشت سے متعلق بیرونی سرمایہ کار پُراعتماد ہوگئے۔ اپٹما اور دیگر اداروں نے تسلیم کیا ہےکہ حکومت ان کی مدد کررہی ہے۔ کوشش ہے5 بڑے برآمدی سیکٹرز کی مدد کی جائے۔ریونیو میں16 فیصد اضافہ کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 5500 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ملکی برآمدات اور پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کی گئی تاکہ روز گار کے موقع پیداہوسکیں ۔ مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی طرف سے برآمدی صنعت کو بجلی ، گیس اور قرضوں کے حصول میں مراعات دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران حکومت نے دو بڑے خساروں پر قابو پایا ہے ، گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے دوران بیرونی تجارت کا خسارہ 9 ارب ڈالر تھا جو تین ماہ کے دوران 5.7 ارب ڈالر تک کم ہوا اور تجارتی خسارے میں 35 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور اسی طرح مالیاتی خسارے کو بھی تین ماہ کے دوران 36 فیصد تک کم کیا گیا ہے، حکومت کے یہ چند بڑے اقدامات ہیں جن کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے پہلے تین ماہ کے دوران مالیاتی خسارہ 738 ارب روپے تھا جو 476 ارب روپے تک کم ہوا ، اسطرح اس میں 35 فیصد کمی ہوئی ہے ۔مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران حکومتی آمدنی میں 16فیصد اضافہ کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مالیاتی خسارے میں بہتری کے ساتھ ساتھ ریونیو بڑھانا اور حکومت کے اخراجات میں کمی ہماری اولین ترجیحات ہیں، گزشتہ تین ماہ کے دوران ہم اخراجات کو سختی سے کنٹرول کر رہے ہیں اور حکومت نے سٹیٹ بینک سے کوئی قرضہ نہیں لیا۔انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں حکومت کی نان ٹیکس آمدنی میں140 فیصد اضافہ ہوا اور اس عرصے میں نان ٹیکس آمدن کی مد میں 406 ارب روپے کی وصولیاں کی گئی ہیں جو بہت بڑی کامیابی ہے ۔مشیر خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال بجٹ میں نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 1200ارب روپے رکھا گیا ہے جس میں 400 ارب روپے اضافے سے اس کو 1600ارب روپے تک بڑھانے کیلئے پر اعتماد ہیں ۔ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ماضی میں اس کو ایک حد تک رکھنے کیلئے کئی ارب ڈالر ضائع کر دیے گئے لیکن ہم نے کوشش کی ہے کہ پاکستانی عوام کے پیسوں کے ضیاع کو روکا جائے تاکہ برآمدات بڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایکسیچنج ریٹ پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں استحکام آیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین سال کے بعد بیرونی سرمایہ کاری کی مد میں 340 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور پاکستان پر بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھا ہے ۔ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ گزشتہ پانچ سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا لیکن اب ان میں اضافے کا رجحان دیکھ رہے ہیں اور حکومتی اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، برآمدی صنعت کی پیداوار بڑھ رہی ہے اور روز گار بھی پیدا ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سمندر پار ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کی تعداد میں اضافے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ ان کی زندگی بہتر ہو اور ترسیلات زر بھی بڑھے ۔