10:51 am
’’2019کی بین الاقوامی رپورٹ جاری ‘‘ پاکستان کو پہلے سے زیادہ کرپٹ قرار دے دیا گیا

’’2019کی بین الاقوامی رپورٹ جاری ‘‘ پاکستان کو پہلے سے زیادہ کرپٹ قرار دے دیا گیا

10:51 am

اسلام آباد (ویب ڈیسک) 8بین الاقوامی تنظیموں میں سے دو تنظیمیں جو کرپشن پر ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل کی سالانہ رپورٹ میں معاونت کرتی ہیں، 2019ء کیلئے اپنی رپورٹ میں پاکستان کو پہلے سے زیادہ کرپٹ قرار دیا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے کرپشن پریسپشن انڈیکس ( سی پی آئی) کی آئندہ سالانہ رپورٹ میں اپنی پوزیشن کھو دے گا ،یہ رپورٹ فروری 2020ء میں برلن سے جاری ہوگی۔ کرپشن کی جانچ پڑتال پر کام کرنے والی تنظیم کے ذرائع کے مطابق ورلڈ اکنامک فورم کی حالیہ رپورٹ میں پاکستان کی پوزیشن 99 سے نیچے 101 ویں دکھائی گئی ہے ۔ روزنامہ جنگ میں سینئر صحافی انصار عباسی نے لکھا
کہ کرپشن انڈیکس میں درجہ بندی گرنے کی وجہ کرپشن سے متعلق زیادہ کیسز کا اندراج بتایا جاتا ہے ۔ ورلڈ اکنامک فورم کی تشخیصی رپورٹ سے قبل ورلڈ جسٹس پروجیکٹ میں اس کے رول آف لاء انڈیکس 2019ء ان سائٹس میں تشخیص کی ہے کہ پاکستان 2018 کے مقابلے میں 2019 میں ایک پوزیشن سے محروم ہو جائے گا۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل عالمگیر سطح پر سی پی آئی کیلئے اعداد و شمار کے 13 مختلف ذرائع کو استعمال کرتا ہے ، تاہم پاکستان کے معاملے میں سروے کیلئے 8 بین الاقوامی تنظیموں کے اعداد و شمار کو زیر غور لایا جاتا ہے جن میں برٹلسمین اسٹفٹنگ ٹرانسفارمیشن انڈیکس ، اکنامسٹ انٹلی جنس یونٹ کنٹری رسک سروس، گلوبل انسائیٹ کنٹری رسک ریٹنگز، آئی ایم ڈی ورلڈ کمپی ٹیٹونس سنٹر ورلڈ کمپی ٹیٹونس ایئر بک ایگزیکٹو اوپنیئن سروے، ورلڈ بینک کنٹری پالیسی اینڈ انسٹی ٹیوشل اسیسمنٹ، ورلڈ اکناملک فورم ایگزیکٹو اوپینئن سروے، ورلڈ جسٹس پروجیکٹ رول آف لاء انڈیکس اور ورائٹیز آف ڈیموکریسی شامل ہیں، مذکورہ 8 میں سے دو تنظیموں نے پہلے ہی پاکستان کی درجہ بندی گھٹا دی ہے ، جو پاکستان میں کرپشن میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ چیئرمین نیب جسٹس ( ر) جاوید اقبال نے بھی کہا کہ شکایات ، تحقیقات و تفتیش 2018 کے مقابلے میں تقریباً ڈگنی ہوگئی ہیں۔یہ صورتحال خطرناک ہے، کیونکہ تمام امدادی ادارے کسی ملک کے بارے میں سی پی آئی اسکور کو قرضوں کی منظوری اور کڑی شرائط کیلئے بروئے کار لاتے ہیں تا کہ قرضوں کی واپسی کا تحفظ کیا جاسکے، حتیٰ کہ غیر ملکی بینکس بھی یہی طریقہ کار بروئے کار لاتے ہیں۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی گزشتہ رپورٹ کی سی پی آئی 2018ء میں معمولی بہتری دکھائی گئی تھی جو 2017 ء کے مقابلے میں ایک پوائنٹ بہتر تھی۔ 2018ء کی رپورٹ میں پاکستان کی درجہ بندی 180 ممالک میں 117 ویں تھی۔اس حوالے سے حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک میں کرپشن ہے مگر پہلے سے ہے اور اس کے تدارک کیلئے کام کررہے ہیں تاہم 70سال کا گند 13ماہ میں تو صاف نہیں ہوسکتا ، غیر ملکی رپورٹس میں ایسا کوئی وزن نہیں اس سے جو تاثر دیا جارہا ہے وہ غلط ہے ، پی ٹی آئی حکومت کا عزم کرپشن کا خاتمہ ہے اور وزیراعظم عمران خان بھی اس کا بار بار اظہار کرچکے ہیں کہ انہیں مینڈیٹ کرپشن کے خاتمے کیلئے ملا ہے اور انہوں نے ہمیشہ این آر او دینے سے انکار کیا ہے ۔