12:08 pm
لاہور میں ایم اے او کالج کے پروفیسر نے طالبہ کے جھوٹے الزام کی وجہ سے خودکشی کرلی

لاہور میں ایم اے او کالج کے پروفیسر نے طالبہ کے جھوٹے الزام کی وجہ سے خودکشی کرلی

12:08 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ جس کی بادشاہت کا ڈنکا چہار دانگ عالم میں بج رہا تھا۔ اپنے استاد کے ساتھ سفر کرنے کے لیے نکلا، راستے میں ایک ندی آگئی استاد نے آگے بڑھ کر ندی کو پار کرنا چاہا لیکن بادشاہ نے استاد محترم سے کہا کہ استاد محترم! ندی کو پہلے میں پار کروں گا۔ استاد کو بہت برا محسوس ہوا کہ شاگرد اگر بادشاہ ہے توکیا ہوا میں ان کا استاد ہوں۔ تکریم اور فضیلت میں مجھے مرتبہ حاصل ہے۔ اس لیے ندی کو پہلے پارکرنا میرا حق ہے۔ بادشاہ نے ان کی بات سنی اورکہا۔ استاد محترم! آپ کی بات سر آنکھوں پر بے شک آپ کا مرتبہ اور عزت مجھ سے زیادہ ہے کیونکہ آپ ہی میرے استاد ہیں اور پہلے ندی پار کرنے میں میرا مقصد صرف یہ تھا
کہ اگر آپ نے ندی پہلے پار کی اور اس کے نتیجے میں آپ کی جان چلی گئی تو پورے عالم کا نقصان ہوگا اس لیے میں نے سوچا کہ پہلے ندی میں پارکروں تاکہ پانی کی تندی کا اندازہ ہوسکے کیونکہ میرے ندی عبور کرنے کے نتیجے میں اگر میری جان چلی گئی تو صرف ایک شہنشاہ کی جان جائے گی آپ زندہ رہے تو مجھ جیسے کتنے بادشاہ بنا سکتے ہیں۔ یہ بادشاہ سکندر اور استاد ارسطو تھے۔یہ واقعہ صدیوں سے استاد کی عزت و احترام کا گواہ ہے مگر اسلامی معاشرے نے تو استاد کو روحانی باپ قرار دیا ہے اور استاد کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے کیونکہ یہ پیشہ پیغمبری پیشہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معلم انسانیت تھے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے جس نے مجھے ایک سبق بھی پڑھایا وہ میرا استاد ہے۔ یعنی حضرت علیؓ جیسا عالی مرتبہ انسان جو خلیفہ وقت ہونے کے ساتھ ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے داماد بھی تھے آپؓ نے استاد کی اہمیت کے متعلق فرما کر استاد کی اہمیت کو امر کردیا۔ شاعر مشرق حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال کی خدمت میں برطانوی حکومت نے ’’سر‘‘ کا خطاب پیش کیا مگر علامہ اقبال نے یہ کہہ کر خطاب لینے سے انکار کردیاکہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اس میں میرے استاد کا بہت اہم کردار ہے اس لیے پہلے میرے استاد کو یہ خطاب دیا جائے، پھر مجھے دیا جائے۔ یہ تمام واقعا ت ہمارے لیے مشعل راہ ہیں تاہم صد افسوس کہ ہم ان تاریخی واقعات کو پڑھتے تو ضرورہیں مگر اس سے کوئی سبق لینے کو تیار نہیں ۔گزشتہ دنوں ایک افسوسناک واقعہ ہوا مگر مجال ہے کہ میڈیا کے کانوں پر جوں تک رینگی ہو ۔ محض اس لیے کہ وہ ایک مرد کی عزت کی بات تھی ۔ ایک استاد پر ایک اس کی طالبہ نے جھوٹا الزام لگایا جس کی بنیاد پر اس استاد کو خود کشی کرنی پڑی مگر وہ لڑکی آج بھی محترم اور وہ استاد آج بھی بدنام ۔ تفصیلات کے مطابق لاہور کی مشہوردرس گاہ ایم اے او (محمڈن اینگلو اوری اینٹل) کالج کے انگریزی کے لیکچرار افضل محمود نے ایک طالبہ کی جانب سے خود پر جنسی ہراسگی کا الزام لگائے جانے کے بعد زہر کھا کر خُود کُشی کر لی۔ یہ واقعہ 9 اکتوبر 2019ء کو پیش آیا تاہم حیران کُن طور پریہ افسوس ناک خبر میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہی۔اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے والے افضل محمود کی لاش کے ساتھ ان کی ایک تحریر بھی مِلی جس میں لکھا تھا کہ وہ اپنا معاملہ اب اللہ کے سپرد کر رہے ہیں، اور ان کی موت کے بارے میں کسی کی نہ تفتیش کریں اور نہ ہی زحمت دیں۔ جبکہ پولیس اور میڈیکل رپورٹ سے بھی ثابت ہوا ہے کہ انہوں نے خود کُشی کی ہے اور لکھا گیا نوٹ بھی ان کے ہاتھوں سے تحریر کیا گیا ہے۔ افضل محمود کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ کے نام لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ اس جھوٹے الزام کی وجہ سے میرا خاندان پریشانی کا شکار ہے۔میری بیوی بھی آج مجھے بدکردار قرار دے کر جا چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں کالج اور گھر میں ایک بدکردار آدمی کے طور پر جانا جاتا ہوں۔ اس وجہ سے میرے دل اور دماغ میں ہر وقت تکلیف ہوتی ہے۔ افضل محمود پرطالبہ کی جانب سے ہراساں کرنے کے الزام کی تفتیش کرنے والی، ایم اے او ہراسمنٹ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر عالیہ رحمان نے برطانوی خبر رساں ادارے بی بی سی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ افضل پر لگنے والا الزام تفتیش میں جھوٹا ثابت ہوا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ان تک ماس کمیو نیکشن ڈیپارٹمنٹ کی ایک طالبہ کی درخواست پہنچی تھی جس میں درج تھا کہ سر افضل لڑکیوں کو گھور کر دیکھتے ہیں۔ جب یہ کیس میرے پاس آیا تو میں نے اس لڑکی سے بات کی تو اس نے مجھے کہا کہ اصل میں سر ہمارے نمبر کاٹتے ہیں اور ہماری کلاس میں حاضری کم تھی اس لیے سر نے ہمارے نمبر کاٹ لیے۔میں نے ان سے کہا کہ اس بات کو سائیڈ پر کریں اور ان کے کریکٹر کی بات کریں اور یہ بتائیں کہ افضل نے ان کے ساتھ کبھی کوئی غیر اخلاقی بات یا حرکت کی؟ جس پر الزام لگانے والی طالبہ نے جواب دیا کہ نہیں مجھے تو نہیں کہا لیکن میری کلاس کی لڑکیاں کہتی ہیں کہ وہ ہمیں گھورتے ہیں۔ ‘ڈاکٹر عالیہ کے مطابق انہوں نے انکوائری مکمل کرنے کے بعد انکوائری رپورٹ میں یہ لکھ دیا کہ افضل کے اوپر غلط الزامات لگائے گئے ہیں اور وہ معصوم ہیں۔ میں نے اپنی انکوائری رپورٹ میں یہ لکھا تھا کہ افضل بے قصور ہیں اور اس لڑکی کے کو وارننگ جاری کی جائے اور اسے سختی سے ڈیل کیا جائے۔