03:39 pm
 پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کے افتتاح پر سابق بھارتی وزیر اعظم کو دعوت پر کیا جواب دیا

پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کے افتتاح پر سابق بھارتی وزیر اعظم کو دعوت پر کیا جواب دیا

03:39 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)میں مہمان خصوصی نہیں بلکہ عام شہری بن کر آئوں گا، پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کے افتتاح پر سابق بھارتی وزیر اعظم کو دعوت پر کیا جواب دیا ۔۔۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی وزیراعظم کو چیلنج دیا ہے کہ اگر وہ روک سکتے ہیں تو روک لیں ، کرتار پور راہداری وقت مقررہ پر ہی کھلے گی۔ ملتان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا
کہ کرتارپور راہداری کا افتتاح حسبِ وعدہ 9 نومبر کو وزیراعظم کریں گے، سابق بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو کرتار پور راہداری کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی جس پر انہوں نے خط لکھاہےکہ وہ ضرورآئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ من موہن سنگھ نے لکھا ہےکہ وہ مہمان خصوصی کے طور پر نہیں بلکہ عام شہری کے طورپرآئیں گے، وہ اگر عام شہری کے طور پربھی آئیں گے تو ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت چاہے یا نہ چاہے کرتارپور راہداری کھل رہی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت میں جرات نہیں کہ وہ مشرقی پنجاب سے قافلوں کو روک سکے کیوں کہ مشرقی پنجاب میں کرتارپور راہداری سے آنے کیلئے قافلے تیاری کرچکے ہیں اور نریندر مودی کو میرا پیغام ہے کہ روک سکو تو روک لو،کرتارپور راہداری کھلے گی اور آپ نہیں روک پائیں گے۔ ملکی حالات پر وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل روشن ہے، پاکستان کی عوام بہت زیرک، سمجھدار اور حالات سے بخوبی آگاہ ہے، عوام سمجھتی ہے کہ ملک میں معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کیلئے عدم استحکام سے بچناہوگا لہٰذا عوام کسی انتشار کا حصہ نہیں بنے گی۔