09:51 am
صلاح الدین کے والد نے پاکستان کی کس معروف شخصیت کے کہنے پر پولیس اہلکاروں کو معاف کیا تھا

صلاح الدین کے والد نے پاکستان کی کس معروف شخصیت کے کہنے پر پولیس اہلکاروں کو معاف کیا تھا

09:51 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں اے ٹی ایم توڑکر اس میں اپنا کارڈ نکالنے والے صلاح الدین کو کون نہیں جانتا ، سوشل میڈیا پر کسی کو جیل میں موت کے بعد جتنی شہرت ملی وہ بس اسی کا خاصہ تھی ۔ گزشتہ دنوں یہ بھی خبر چلی کہ صلاح الدین کے والد نے بیٹے کی ہلاکت کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو معاف کر دیا تھا لیکن یہ معافی انہوں نے کس کے کہنے پر دی اس حوالے سے صلاح الدین کے والد محمد افضال نے حال ہی میں دئے گئے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا۔ صلاح الدین کے والد نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو انٹرویو کو دیتے ہوئے کہا کہ عام معافی کا مسجد سے اعلان میں نے خود اپنی مرضی سے کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک دن لاہور کی کیمپ جیل سے مجھے میری جماعت کے امیر حافظ محمد سعید کا پیغام موصول ہوا۔ مجھے جیل لے جایا گیا جہاں پر حافظ صاحب نے میرے سامنے تین آپشنز رکھے: آپ چاہیں تو پولیس اہلکار سزا بھگتنے کو تیار ہیں، اگر آپ دیت کا مطالبہ کریں تو وہ پیسے دینے کو تیار ہیں اور تیسرا آپشن یہ ہے کہ آپ اللہ کے واسطے ان پولیس اہلکاروں کو معاف کر دیں۔انہوں نے کہا کہ میں حافظ صاحب کا بہت احترام کرتا ہوں کیونکہ وہ میری جماعت کے امیر بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اللہ سے اجر حاصل کرنے کی خاطر ان پولیس اہلکاروں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا جس میں میرے ساتھ باقی گھر والوں کی رائے بھی شامل تھی۔ خیال رہے کہ راضی نامے والے دن یہ اعلان بھی کیا گیا کہ صلاح الدین کے گاؤں گورالی میں سوئی گیس کی فراہمی، سکول اور رابطہ سڑک کی تعمیر کے منصوبے جلد مکمل کر لیے جائیں گے۔جس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں صلاح الدین کے والد محمد افضال نے کہا کہ گاؤں میں تین منصوبوں کا معافی سے تعلق نہیں ہے اور یہ اپنے طور پر راضی نامے والے دن علاقے کے لوگوں کے سامنے انتظامیہ کے افسران نے اعلان کیا تھا۔ صلاح الدین کے چچا نے کہا کہ ایک محکمے کے کچھ لوگ میرے بھائی کے گھر آئے تھے جس کے بعد حافظ سعید سے ملاقات کروائی گئی اور پھر ان کے کہنے پر راضی نامہ ہو گیا تھا۔