05:19 pm
پاکستان میں کس قسم کی آزادی ہے،70سال گزرنے کے باجود ہم صاف الیکشن نہیں کرواسکے،

پاکستان میں کس قسم کی آزادی ہے،70سال گزرنے کے باجود ہم صاف الیکشن نہیں کرواسکے،

05:19 pm

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو کٹھ پتلی، سلیکٹڈ، نا اہل، نا لائق اور سازشی قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں مل کر عمران نیازی کو گھر بھیجیں گی۔اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے پہلی مرتبہ لکھی ہوئی تقریر کے بجائے فی البدیہہ اپنے خیالات کا اظہار کیا اور دوران تقریر شدید جذباتی ہوگئے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان عوام کے ووٹ سے اقتدار میں نہیں آئے بلکہ سلیکٹرز کے کاندھوں پر سوار ہوکر وزیراعظم بنے۔ اس لیے اب سلیکٹڈ کو عوام کی فکر نہیں۔ صرف سلیکٹرز کو خوش رکھا جارہا ہے
جبکہ عوام پر مہنگائی اور ٹیکس کا ناقابل برداشت بوجھ ڈالا جارہا ہے۔انہوں نے سلیکٹرز کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق کے دور میں بھی دھاندلی ہوئی، پرویز مشرف نے بھی دھاندلی کا سہارا لیا مگر فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں گھسایا۔ یہاں تک کے 2008 اور 2013 کے انتخابات کے دوران ملک میں دہشت گردی عروج پر تھی پھر بھی فوج کو انتخابی عمل میں صرف سیکیورٹی کی ڈیوٹی دی گئی مگر 2018 کے انتخابات میں نالائق کو جتوانے کے لیے فوج کو پولنگ اسٹیشن کے اندر تعینات کیا گیا اور فوجی اہلکاروں نے دوسری جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو باہر نکال دیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سازش نے ہمارے عظیم اداروں کو متنازع کردیا ہے کیوں کہ یہ فوج عمران خان کی نہیں بلکہ ہم سب کی فوج ہے اور ہم اس کو متنازع نہیں بننے دیں گے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سلیکٹڈ کے نئے پاکستان میں نہ عوام آزاد ہے اور نہ ہی سیاست اور میڈیا۔ یہاں بھارتی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادو اور پائلٹ ابے نندن، دہشت گرد احسان اللہ احسان کا انٹرویو تو چل سکتا ہے مگر آصف زرداری، میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے انٹرویو ٹی وی پر نہیں چل سکتے۔ آخر یہ کیسی آزادی، کس طرح کی جمہوریت اور کہاں کی تبدیلی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ سلیکٹڈ کے پاکستان میں ارب پتی امیروں کے لیے بیل آؤٹ پیکج، ٹیکس ایمنسٹی اسکیم اور قرضے معاف کیے جارہے ہیں جبکہ عوام کیلئے مہنگائی، ٹیکسوں میں اضافہ اور روزگار چھینا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ 70 سال میں کشمیر پر پہلی مرتبہ تاریخی حملہ ہوا اور ہمارا وزیراعظم اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہتا ہے میں کیا کروں۔ سلیکٹڈ کو تقریر اور ٹوئٹ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ نیازی نے کشمیر کا سودا کرلیا ہے اور یہ سودا ہمیں کسی صورت منظور نہیں۔ کشمیر کے لیے آخری دم تک لڑیں گے۔بلاول بھٹو نے تقریر کے اختتام پر زردار آواز میں گو سلیکٹڈ گو کے نعرے لگائے اور مارچ کے شرکا نے ان کا بھرپور جواب دیا۔