06:21 pm
اگر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو یہ کام کرکے دکھائو!اپوزیشن جماعتوں کو بڑا چیلنج کردیا گیا

اگر حکومت گرانا چاہتے ہیں تو یہ کام کرکے دکھائو!اپوزیشن جماعتوں کو بڑا چیلنج کردیا گیا

06:21 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی و تجزیہ کار کامران خان نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ اگر نواز شریف، شہباز شریف ، بلاول بھٹو زرداری اور فضل الرحمان سیلیکٹڈ سے چھٹکارا چاہتے اور نئے الیکشن آزادی مارچ کا مطالبہ ہے تو اسی وقت آزادی مارچ کے جلسے میں مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلی سے استعفوں کا اعلان کریں اور اپنے استعفے مولانا کے ہاتھ پر رکھ دیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ کا سادہ حل ہے ورنہ یہ سب ڈرامہ تصور ہوگا۔واضح رہے کہ پانچ روز قبل کراچی سے شروع ہونے والا آزادی مارچ اس وقت اسلام آباد میں موجود ہے
۔جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان نے آج اپنے مطالبات حکومت کےسامنے رکھنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہا کہ نماز جمعہ کے بعد قومی یکجہتی سے مارچ کا آغاز ہوگا ، اگر حکومت نے خلاف ورزی نہیں کی تو معاہدے کی مکمل پاسداری کریں گے۔دوسری جانب اسلام آباد کے ایچ ایٹ گراؤنڈ میں آزادی مارچ کے شرکا کے لیے میڈیکل کیمپز بھی لگائے گئے ہیں۔ یہ میڈیکل کیمپز مختلف نجی فلاحی اداروں کے ساتھ ساتھ آزادی مارچ کے منتظمین کے زیر انتظام لگائے گئے ہیں۔ اپوزیشن نے بعد از نماز جمعہ آزادی مارچ جلسہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ممکنہ طور پر جمیعت علمائے اسلام (ف) کے آزادی مارچ جلسے میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی شریک ہوں گے اور آزادی مارچ جلسے سے خطاب کریں گے۔اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتیں بھی آزادی مارچ میں شامل ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ روز آزادی مارچ کا جلسہ سانحہ تیز گام ایکسپریس کے پیش نظر ملتوی کیا گیا تھا جو آج ہو گا۔