06:26 pm
’’فضل الر حمٰن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی کیا ضرورت ہے ‘‘

’’فضل الر حمٰن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کی کیا ضرورت ہے ‘‘

06:26 pm

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے گلگت میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مولانا فضل الرحمن اور آزادی مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت اور بھارتی میڈیا فضل الرحمن کے مارچ سے خوش ہے۔ بھارتی میڈیا فضل الرحمن کو ایسے دکھا رہا ہے جیسے ان کا شہری ہو۔ جے یو آئی کہتی ہے کہ اسلام آباد یہودیوں سے قبضہ لینے آئے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ یہ کس سے آزادی لینے آئے ہیں۔ فضل الرحمن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی کیا ضرورت ہے۔ ڈیزل کے پرمٹ پر مولانا کا ایمان بِک جاتا ہے۔ایسے اسلام آباد آئے ہیں جیسے ہندوستان آزاد کرانے آئے ہیں۔ یہ لوگ اسلام کے نام پر پیسہ بناتے ہیں۔ سب بے روزگار اکٹھے ہو گئے ہیں۔
فضل الرحمن کو دیکھ کر کوئی اسلام کی طرف نہیں آئے گا، لیکن اسلام چھوڑ ضرور سکتا ہے۔سیاست کا 12 واں کھلاڑی استعفے کے لیے اُکسا رہاہے۔وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ سیاسی یتیم سمجھ رہے ہیں کہ میں استعفیٰ دے دو ں گا۔ وہ دن چلے گئے جب آپ اسلام کو اقتدار کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مذہب کو ووٹ کے لیے استعمال کرنے سے ملک کو نقصان ہوتا ہے۔ انہوں نے دھرنے کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جتنے دن بیٹھنا ہے، بیٹھیں، جب انکا کھانا ختم ہو گا تو تھوڑا کھانا بھی بھجوا دیں گے۔پیپلز پارٹی کو پتا ہی نہیں، وہ مارچ میں کیوں ہے۔ پیپلز پارٹی والوں سے پوچھیں کہ وہ مارچ میں کیوں ہیں تو کہیں گے بہت مہنگائی ہو گئی ہے۔ حالانکہ سب سے زیادہ مہنگائی پیپلز پارٹی کے دور میں ہوئی تھی۔خود کولبرل کہنے والا بلاول بھی مارچ میں آ گیا ہے۔ ہماری حکومت کو پتا چل رہا ہے کہ پیسہ کدھر گیا ہے۔ سیاسی بے روزگاروں کو بتا دوں کہ آپ لوگوں کو کسی صورت این آر او نہیں مِلے گا۔

تازہ ترین خبریں