06:30 pm
فضل الرحمان مسئلہ کشمیر کو پیچھے دھکیلنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں

فضل الرحمان مسئلہ کشمیر کو پیچھے دھکیلنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں

06:30 pm

پشاور(آن لائن)خیبر پختونخواکے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ فضل الرحمان مسئلہ کشمیر کو پیچھے دھکیلنے کے اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے ہے جومودی اور بھارت بھی چاہتا ہے۔ پندرہ لاکھ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا دعوی کرنے والے ایک لاکھ لوگ بھی نہ لاسکے۔ ہماری حکومت نے دھرنے میں جانے والوں کے لئے تمام راستے کھلے رکھے ۔جب کہ ہمارے سابقہ وزیر اعلی پر راستے میں بد ترین شیلنگ کی گئی تھی سب کو پتہ ہے کہ ہمارے دھرنے پر جانے کے لئے کتنی مشکلات پیدا کی گئی تھیں صوبائی وزیر نے کہا
کہ اسمبلیوں میں خواتین کی سیٹوں پر سیاست کرنے والی JUI نے دھرنے میںخواتین صحافی کے ساتھ بدتمیزی کی اور عورتوں کو جلسے میں اجازت نہیں دی اپنے آپ کو سیکولر جماعت کہنے والی اے این پی اور پی پی پی کو اس عمل سے زرہ بھی شرم نہیں آئی۔ وہ اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر اعلی کے مشیر برائے ضم شدہ اضلاع اجمل وزیر اور چیئرمین ڈیڈک سوات فضل حکیم خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔شوکت یوسفزئی نے کہا کہ فضل الرحمان نے ہمیشہ سے اتنی ہی سیٹیںجیتی ہیں تو ان کا کونسا مینڈیٹ چوری ہوا ہے فضل الرحمان کی طرح اسفندیار اور آفتاب شیرپاؤ کو بھی لوگوں نے مسترد کیا ہوا ہے۔ بار ہ ووٹوں سے قومی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتنے والی اے این پی استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے جو ایک مذاق ہے خیبرپختونخوا کے لوگوں نے دھرنے میں شرکت نہ کر کے سیاسی پختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ میں اتنی منتشر اپوزیشن کبھی نہیں دیکھی کہ کسی کو پتہ بھی نہ ہو کہ جلسہ ہورہا ہے کہ دھرنا۔یہ سب کرپشن چھپانے کے لئے ایک کنٹینر پر سوار ہوگئے ہیں خود کو مہذب اور اسلامی جماعت کہنے والی جمعیت علمائے اسلام کو عمران خان کے ریاست مدینہ کے تصور کو سپورٹ کرنا چاہئے مولانا اسمبلی سے پہلی بار باہرہوئے ہیں اس لیے ان کو تکلیف ہو رہی ہے۔ دس سال تک کشمیر کمیٹی کے چیرمین رہنے کے باوجودانہوںنے کشمیر کے لیے کچھ نہیں کیا یہ کشمیری لوگوں کی بد دعائیں ہیں جو فضل الرحمان کو لگی ہے اتنا بڑا ریل کا سانحہ ہونے کے باوجود اپوزیشن نے جلسہ ملتوی نہیں کیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد دھرنا ختم کردیا تھا۔ وزیر اعلی کے مشیر اجمل وزیر نے اس موقع پر کہاکہ وزیر اعلی محمود خان کی ہدایات کے مطابق دھرنے کے لیے تمام راستے کھلے رکھے گئے ہیں اور کوئی بھی رستہ کنٹینر لگا کر بند نہیں کیا گیا جبکہ تمام اسکول اور کاروباری مراکز بھی معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے تیس سالوں تک ملک پر حکومت کی چوبیس ہزار ارب روپے کا قرضہ انہی لوگوں نے ملک پر چڑھایا۔ لیکن اب وہ سب اپنی کرپشن کو تحفظ دینے کے لیے ایک کنٹینر پر سوار ہوگئے ہیں۔ہماری حکومت اپنے معاہدے پر قائم ہے لیکن اگر اپوزیشن نے معاہدہ توڑا تو پھر سخت ایکشن ہوگا۔

تازہ ترین خبریں