06:02 am
وزیر اعظم کو گھر کے اندر جا کر گرفتار کر لیں ، آزادی مارچ اور حکومت سے متعلق  دھماکہ خیز بیان آگیا

وزیر اعظم کو گھر کے اندر جا کر گرفتار کر لیں ، آزادی مارچ اور حکومت سے متعلق دھماکہ خیز بیان آگیا

06:02 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کیلئے دو دن کی مہلت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کے عوام کا سمندر اس بات کی قدرت رکھتا ہے کہ وزیراعظم کوان کے گھر کے اندر جاکر گرفتار کرلیں،کسی ادارے کے ساتھ تصادم نہیں چاہتے ،پاکستان پر حکومت کرنے کا حق عوام کا ہے ،کسی ادارے کا پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق حاصل نہیں،ہمیں کہا جاتا ہے سرحد پر تنائو ہے آزادی مارچ نہ کریں
دوسری طرف راہداری کھول بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں ،کوئی مائی لعل مستقبل میں پاکستان کی سر زمین پر ناموس رسالتؐ کو چھیڑ نہیںسکے گا، ہمیں مذہب کارڈ استعمال کر نے کا کہا جاتاہے ،ہم آئین کے مطابق بات کرتے ہیں ، پاکستان اور اسلام ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ،میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں ، میڈیا سے پابندی فوراً اٹھا لیں اگر نہیں اٹھائیں گے تو ہم بھی کسی پابندی کے پابند نہیں ہونگے،آپ کہتے ہیں نوازشریف اور کرپٹ ہے ،آپ کی پوری پارٹی فارن فنڈکھا گئی ، پورا ٹبر چور ہے ،ہم پر امن ہیں اور ہمارے پرامن ہونے کااحترام کیا جائے ،رحیم یار خان میں ٹرین حادثہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے،رہبر کمیٹی موجود ہے ،مشاورت کے ساتھ تجاویز طے کی جائیں گی ۔ جمعہ کو آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ قومی اجتماع ہے ان کے جذبے اور ولولے کو سلام پیش کرتا ہوں ۔انہوںنے کہاکہ ہمار ے اجتماع میں تمام سیاسی قائدین موجود ہیں ،تمام جماعتوں کے قائدین کو خوش آمدید بھی کہتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ تمام جماعتوں کا باہمی یکجہتی کا فیصلہ درحقیقت قومی یکجہتی کااظہار کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارا مطالبہ کسی ایک تنظیم یا ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ سنجیدہ اجتماع ہے ،پوری دنیا سنجیدگی سے لے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم فیصلہ کررہے ہیں ،ہم اس ملک میں انصاف پر مبنی نظام چاہتے ہیں ،جو عوام کی مرضی سے ہو ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہے ، رحمت کا مہینہ ہے ،اس کی نسبت رسول ؐ کے میلاد کی طرف ہے ، اس مہینے کو احترام کے نظریئے سے دیکھا جاتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اجتماع کررہے ہیں اور اللہ کی طرف سے رحمت برس رہی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ یہ اجتماع کتنا مبارک وقت میں ہورہا ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جب ہم نے دیکھا کہ یہاں ناموس رسالت ؐکی توہین اور عقیدت ختم نبوت کے خلاف سازشیں کر نے والے میدان میں اتررہے ہیں تو کہنا چاہتاہوں ربیع الاول اور ناموس رسالت ؐکا دفاع کیلئے مبارک اجتماع ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اس وقت پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کئے ہوئے ہیں ،مطالبہ ایک ہی ہے کہ 25جولائی کے الیکشن فراڈ الیکشن تھے ،وہ بد ترین دھاندلی کا شکار ہوئے تھے ،نہ نتائج کو تسلیم کر تے ہیں نہ حکومت کوتسلیم کرتے ہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایک ہی فیصلہ کر نا ہے کہ اس حکومت کو جانا ہے ،ایک سال کی مہلت بہت مہلت ہے، مزید اس حکومت کو مہلت دینے کیلئے تیار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یہ قوم آزادی چاہتی ہے اس ملک میں نا اہلی کے نتیجے میں معیشت تباہ ہوگئی ہے جس ریاست کی معیشت بیٹھ جائے وہ ریاست اپنا وجود برقرار نہیں رکھتی ۔ انہوںنے کہاکہ اگر سویت یونین کا اپنا وجود برقرار نہیں رہا تو پاکستان بھی اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے نا اہل حکمرانوں کو اعتراف کر تے ہوئے ریاست کی حاکمیت سے دستبر دار ہو جانا چاہیے ۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر کو بیچ دیا ہے ،کہتے ہیں ہم کشمیر کی بات کررہے ہیں ،ہمیں کہا گیا کہ آزادی مارچ نہ کریں ،ایل او سی کے اوپر بھارت اور پاکستان کے بیچ بڑی ٹیشن ہے، سرحد کے حالات پیچیدہ ہیں ،ہم نے کہا یہ ایک عجیب بات ہے ،کشمیرکی سرحد پر تنائو ہے جس کی وجہ سے جلسہ نہیں کر نا چاہیے لیکن دوسری طرف کر تار پورراہداری کھولنے کیلئے دوستی کی پینگیں بڑھائی جارہی ہیں ،ایک طرف کہتے ہیںٹینشن ہے او دوسری دوسرا درازہ کھولنے کیلئے بھارت کے ساتھ دوستی کی پینگیں بڑھا ئی جارہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آج کشمیریوں کو تنہام چھوڑ دیا گیا ہے ،کشمیریوں کو حکمرانوں نے مودی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج کا اجتماع تمام سیاسی جماعتوں کا اجتماع ہے ، یہ ایک آواز کیساتھ اعلان کرتا ہے حکومت کی پرواہ کئے بغیر عوام کشمیریوں کی جنگ لڑیں گے، ان کی حق خود ارادیت کی جنگ لڑیں گے اور کشمیری عوام کو کبھی بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس نہیں کرینگے ۔ انہوںنے کہاکہ ملکی معیشت تباہ ہوگئی ہے ،مہنگائی نے گھیرکر لیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ غریب آدمی صبح شام کیلئے راشن خریدنے کیلئے قابل نہیں رہے ،غریب مائیں اپنے روز گار کیلئے اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہوگئی ہیں نو جوان خود کشیاں کر نے پر آگئے ہیں ،رکشے والا اپنے رکشے کو آگ لگا رہاہے ،چھوٹا دوکاندار اپنی دوکان کو برباد ہوتا دیکھ رہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ عوام جس کرب میں مبتلا ہیں کیاقوم کو ہمیشہ کیلئے ان نا اہل حکمرانوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیں ۔انہوںنے کہاکہ ان لوگوں کو اپنی قوم کے غریبوں ، مسکینوں ، مزدورں ، کسانوں ، نو جوانوں ، روز گار وں کیساتھ مزید کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔انہوںنے کہاکہ پچاس لاکھ گھر بنا کر دینگے ،پچاس لاکھ گھر بنانا تو دور کی بات ہے ،پچاس لاکھ سے زیادہ گرا چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ان نا اہل حکمرانوں نے لوگوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے، غریبوں کے روزانہ انٹرویو دیکھ رہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ کہا گیا کہ ایک کروڑ نوکریاں دی جائیں گی، ایک کروڑ تو دو ر کی بات ہے ،بیس سے پچیس لاکھ بے روز گار ہو گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان میں خوشحالی آئے گی ، لوگ باہر آئیں گے ،باہر سے دو بندے آئے ہیں ان میں ایک اسٹیٹ بینک کا گور نر اور ایف بی آر کا چیئر مین ہے ،ان دوکے علاوہ کوئی نہیں ہے اور وہ بھی آئی ایم ایف نے بھیجے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب پاکستان کی معیشت پر اس طرح کے سانپ بیٹھائے جائیں گے جو مغربی معیشت کو خوشحال بنائیں گے اور پاکستان کی معیشت کو ان کے آگے گروی رکھ دی گئیں ،ہم پاکستان کی غلام معیشت کو تسلیم نہیں کر تے ہیں اور جو پاکستان کی بنیاد بنی تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ جب سٹیٹ بینک کا افتتاحی جلسہ ہورہاتھا ،قائد اعظم نے کہا تھا کہ مغربی معیشت نے سوائے جنگوں اور فسادات اور تباہیوں کے ہمیں کچھ نہیں دیا ،ہم مغربی معیشت کو تسلیم نہیں کر تے ہیں ،ہم قر آن و سنت کے مطابق معاشی نظام چاہیں گے قائد اعظم کی روح پوچھ رہی ہے کہاں وہ معیشت ہے اور آپ نے میرے پاکستان کو غلام بنا دیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ جس وقت پاکستان کی 1940میں قرارداد پاس ہورہی ہے قائد اعظم نے صرف پاکستان کا تصور پیش نہیں کیا تھا ،یہودی فلسطینیوں کی سر زمین پر بستیاں آباد کررہے تھے ،فلسطینیوں کی سر زمین پر یہودی بستیاں نا جائز ہیں ،ہم حقوق کی جنگ لڑیں گے ،یہ پاکستان کی پہلی تجویز ہے ،یہ پاکستان کے قائد اعظم کی کمٹمنٹ تھی ، پاکستان نے کہا ہم فلسطینیوں کیساتھ کھڑے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ آج پھر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ نیا پاکستان کس کا پاکستان ہے کیوں پاکستا ن کے تصورات کو تبدیل کیا جارہاہے ،آپ کا اجتماع مبارکباد اجتماع ہے ،عوامی سیلاب اعلان کررہا ہے ،کوئی مائی لعل مستقبل میں پاکستان کی سر زمین پر ناموس رسالتؐ کو چھیڑ نہیںسکے گا ، مستقبل میں کوئی آئین پاکستان میں ختم نبوت کے عقیدت کو نہیں چھیڑ سکے گا ۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں مذہبی کارڈ استعمال کر نے کا طعنہ دیا جاتا ہے ،مذہب کی آئین پاکستان تحفظ دیتا ہے ،میں آئین میں رہتے ہوئے مذہب کی بات کرتا ہوں ،میں آئین کی بات کرتا ہوں تم روکنے والے کون ہوتے ہیں آپ مغرب کی چاپالیسیوں ،وظیفہ خوری کیلئے پاکستان کو مذہب اسلام سے جدا نہیں کیا جاسکتا ،اسلام ہے تو پاکستان ہے ، پاکستان تو اسلام ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آج نو جوانوں کا مستقل تاریک ہے ،کہا جاتا ہے ہم کرپشن کے خلاف لڑ رہے ہیں ، کہاجاتا ہے ،نوازشریف کرپٹ ہے ، زر داری کرپٹ ہے ہم چورڑوں کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ چند روز قبل ورلڈ اکانومک فورم کی رپورٹ پڑھیں ، جس میں کہاگیاکہ ایک سال کے دور ان کرپشن کم ہونے کی بجائے ایک سے دو فیصد کرپشن میں اضافہ ہوگیا ہے ،تم نے کرپشن میں اضافہ کیا ہے ،تم چوروں کے چور ہو ۔ انہوںنے کہاکہ یہ پورے ملک سے آنے والا آزادی مارچ ہے، میڈیا پر پابندی ہے تاکہ دنیا کو پاکستان کے عوام کے جذبات سے آگاہ نہ کر سکیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں میڈیا کے ساتھ کھڑا ہوں میڈیا مالکان اور اینکرز پرسن سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کھل کر آزادی مارچ کا حصہ بنیں ،ہم پابندیوں کے فیصلوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں ۔انہوںنے مطالبہ کیا کہ میڈیا سے پابندی فوراً اٹھا لیں اگر نہیں اٹھائیں گے تو ہم بھی کسی پابندی کے پابند نہیں ہونگے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ ہماری پر امن صلاحیتوں کا اظہار ہے ،ہم پر امن لوگ ہیں ،ہم چاہتے ہیں کہ امن کے دائرے میں رہیں ورنہ اسلام آباد کے اندر عوام کا سمندر یہ قدرت رکھتا ہے کہ وزیر اعظم کو ان کے گھر جا کر خود گرفتار کریں ۔انہوںنے کہاکہ عوام کا فیصلہ آچکا ہے ، اب اس حکومت کو جانا ہی جانا ہے ۔انہوںنے کہاکہ اداروں کے ساتھ بات کر ناچاہتاہوں ، ہم تصادم نہیں چاہتے ہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اداروں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں ،ہم اداروں کو غیر جانبدار بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہم اگر محسوس کریں اس ناجائز حکومت کی پشت پر ادارے ہیں ، نا جائز حکمرانوں کا تحفظ ہمارے ادا ر ے کررہے ہیں تو پھر دو دن کی مہلت ہے پھر ہمیںنہ روکا جائے اداروں کے بارے میں ہم کیا رائے قائم کر تے ہیں۔انہوںنے کہاکہ آج میرے استاد کو سڑکوں کے اوپر گھسیٹا جاتا ہے ،معمار قوم کو اسلام آباد کی سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے ،خواتین استانیوں کے چہرے پر تھپڑے مارے جارہے ہیں ،تھانوں میں تذلیل کی جارہی ہے ،جو قوم کو سنوارنے والے لوگ ہیں آج سزا پارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پشاور کا وہ ڈاکٹر جو لوگوں کے زخم پر مرہم پٹی کرتا ہے آج خود ان کے زخم سے خون رس رہا ہے ،سڑک کو رنگین کررہاہے ،ہسپتالوں میں پڑا ہے ،جہاںیہ لو گ علاج کیلئے جاتے ہیں وہ خود زیر علاج ہیں ،یہ ملک اس لئے بنا تھا کہ وہ ڈاکٹر بھی غیر محفوظ ہو ، وکیل بھی رورہا ہے ، استاد بھی رورہا ہے، میڈیا کا کارکن بھی رو رہا ہے اس کرب سے قوم کو نکالنا ہے تو دو دن کی مہلت ہے تو استعفیٰ دیں ، ہم نے اس سے آگے فیصلے کر نے ہیں ،ہم امن کے ساتھ ہیں ،امن کا احترام کیا جائے ،قوم کے امن کا احترام کیا جائے ،سیاسی جماعتوں کے امن کا حترام کیا جائے ،مزید صبر و تحمل کا مظاہرہ نہیں کر سکتے ہیں ۔ اس موقع پر آزادی مارچ کے شرکاء نے ڈی چوک کی طرف سے جانے کیلئے آوازیں لگائیں تو مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آپ کی آواز میں نے سن لی ہیں ، بلاول بھٹو زر داری ، محمود خان اچکزئی ، خواجہ محمد آصف ، اویس احمد نور انی ،احسن اقبال نے بھی سن لی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ نوازشریف اور آصف علی زر داری نے بھی سن لی ہے اور ہم جن کو سنانا چاہتے ہیں وہ بھی سن لیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم یہ تین دن اس لئے دیئے ہیں کہ تین دن رسول ؐ نے بھی غار میں پناہ لی تھی اس موقع پر جے یو آئی کے رہنما سومرو نے کہا ایک دن گزر گیا ہے اور آنے والے دو ن مزید ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ میں اپنے تمام اکابرین کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، بلاول بھٹو زر داری ، اسفند یار ولی خان کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، ڈاکٹر عبد المالک ، محمود خان اچکزئی ، آفتاب خان شیر پائو ، اویس احمد نورانی ، مسلم لیگ (ن)کے رہنما بھی موجود ہیں ،پروفیسر ساجد میر ، نوازشریف ، آصف علی زر داری سمیت تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ جو ہماری سیاسی قیادت جیلوں میں ہے اللہ تعالیٰ ان کو صحت کاملہ عطا فرمائے ۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے پوچھا کہ آ پ استعفے سے کم راضی ہو سکتے ہیں تو مجھے بتا دیں جس پر شرکاء نے گو نیازی گو کے نعرے لگائے ۔مولانافضل الرحمن نے کہاکہ ڈاکٹرز، اساتذہ ، تاجروں کے مطالبات مانیں جائیں اور حکومت اپنے فیصلے واپس لے ،انہوںنے کہاکہ زمیندار اور کسانوں کے مطالبے بھی تسلیم کئے جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ ٹرین حادثہ میں 75مسافر شہید ہوئے ہیں بہت سارے زخمی ہوئے ہیں وہ ہمارے تبلیغی جماعت کے بھائی ہیں،ان کے بھی دعا کریں ،اللہ تعالیٰ ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔مولانا فضل الرحمن نے مطالبہ کیا کہ ٹرین حادثہ کی اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے یہ معلوم ہونا چاہیے یہ کوئی دہشتگردی کا واقعہ کا تو نہیں ۔انہوںنے کہاکہ ریلوے نے کیا کمزور ی دکھائی ان سے پوچھا جائے ایسی کوتاہی کیوں کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے ایک بار پھر وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی پوری پارٹی پر الزام ہے کہ فارن فنڈنگ کھائی ہے آپ کہتے ہیں یہ چور ہے وہ چور ہے مگر آپ کا تو سارا ٹبر چور ہے ۔ انہوںنے کارکنوں کو ہدایت کی کہ آپ اس میدان میں استقامت کے ساتھ رہیں ،کوئی ساتھی یہاں سے نہیں ہلے گا اس میدان میں جمے رہناہے ،اگر استعفیٰ نہ دیا تو ملکر فیصلہ کر نا ہے ، اب فیصلہ آپ نے کر ناہے ،ووٹ آپ کی امانت ہے ،ووٹ آپ کی ملکیت ہے ،اس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہم انشاء اللہ اس وقت تمام سیاسی رہنمائوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ،رہبر کمیٹی موجود ہے ،مشاورت کے ساتھ تجاویز طے کی جائیں گی ۔

تازہ ترین خبریں