01:09 pm
’’آزادی مارچ میں افغان طالبان کا پرچم لہرائے جانے کا معاملہ ‘‘ جے یو آئی ایف نے کیا اعلان کردیا ، جانیں

’’آزادی مارچ میں افغان طالبان کا پرچم لہرائے جانے کا معاملہ ‘‘ جے یو آئی ایف نے کیا اعلان کردیا ، جانیں

01:09 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے دھرنے میں طالبان کا پرچم لہرایا گیا جس نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ دھرنے میں شرکا کی جانب سے لہرائے جانے والے طالبان کے پرچم سے متعلق نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے دھرنے کی انتظامیہ نے واضح بیان دیا کہ طالبان کا پرچم لہرانے والوں کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق انجینئیر رزاق نے پرچم لہرانے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا جس کے کچھ دیر بعد ہی جھنڈے اُتار لیے گئے۔ ذمہ داران نے بتایا کہ طالبان کے پرچم لہرانے میں جے یو آئی کا کوئی کردار نہیں اور نہ کوئی تعلق ہے۔ جلسے میں اعلان بھی کیا گیا کہ کارکنان میڈیا سے بات نہ کریں، میڈیا سے صرف ذمہ داران ہی بات کریں گے۔
جلسے میں لہرائے جانے والے طالبان کے پرچم سے متعلق بات کرتے ہوئے تجزیہ کار جنرل (ر) غلام مصطفیٰ نے کہا کہ پرچم لہرانے کا مقصد حکومت کو دھمکی دینا ہے کہ ہمارے ساتھ طالبان موجود ہیں۔ایسے جھنڈے حکومت کو واضح پیغام ہے کہ طالبان بھی آزادی مارچ میں موجود ہیں۔ آزادی مارچ کیخلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے حکومت کو سو بار سوچنا چاہیے۔ جنرل ریٹائرڈ غلام مصطفیٰ نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے مزید کہا کہ پرچم لہرانے کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب مرضی سے کیا جارہا ہے اور اس کا مقصد حکومت کو خبردار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نقص امن پیدا ہوا تو فوج حکومت احکامات پر عمل کرے گی لیکن بذات خود جمہوری عمل میں مداخلت نہیں کرے گی۔ یاد رہے کہ جمیعت علمائے اسلام (ف) کے جلسے میں امارات افغانستان کا جھنڈا استعمال کیا جا رہا تھا ، جمیعت علمائے اسلام (ف) کے اس اقدام سے طالبان عنصر کو فروغ مل رہا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے یا جلسے کی انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی کارکن کو یہ جھنڈے لہرانے سے روکا نہیں گیا۔ اس حوالے سے تجزیہ کار بریگیڈئیر (ر) حارث نواز نے کہا کہ پاکستان میں بہت مشکل سے امن آیا تھا لیکن انہوں نے جس طریقے سے جھنڈا بردار فوج دکھائی اور پاکستان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں ، اُس سے پاکستان کا امیج خراب ہو رہا ہے۔

تازہ ترین خبریں