01:21 pm
تمام پارٹیاں مولانا کو وزیر اعظم پاکستان بنانے پر متفق ہو گئیں

تمام پارٹیاں مولانا کو وزیر اعظم پاکستان بنانے پر متفق ہو گئیں

01:21 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ’’پاکستان کے اگلے وزیر اعظم مولانا فضل الرحمٰن ‘‘ تمام پارٹیاں مولانا کو وزیر اعظم پاکستان بنانے پر متفق ہو گئیں ۔۔معروف صحافی ملیحہ ہاشمی نے آزادی مارچ کے شرکاء سے مختلف سوالات کیے۔آزادی مارچ میں آنے والے اکثر شرکاء کو یہ تک معلوم نہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے سیاسی میدان میں آج تک کونسی خدمات انجام دیں۔آزادی مارچ میں شریک ایک شخص سے جب سوال کیا گیا کہ مولانا فضل الرحمن کشمیر کمیٹی کے سربراہ رہے،اور ان کی بہترین کارگردگی رہی،ان کے کوئی تین کام بتا دیں؟۔ جس پر مذکورہ شخص نے کہا
کہ مولانا بہت کچھ کر سکتے ہیں،اینکر نے سوال کیا کہ اب تک کیا کیا؟ جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے ایک پرزور قہقہہ بلند کرتے ہوئے کہا کہ بہت کچھ کیا ہے۔ایک اور شخص نے کہا کہ ہم مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانا چاہتے ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں مولانا فضل الرحمن کو وزیراعظم بنانے پر متفق ہیں۔ آزادی مارچ میں شریک ایک نوجوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن مذہبی کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان نہیں بن سکتے۔ ایک شخص نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا مقصد ہے کہ نئے انتخابات ہوں اور کوئی الیکٹڈ وزیراعظم آئے نہ کہ سیلیکٹڈ۔دھرنے میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ انتخابات میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے کا الیکشن جیتنا بھی درست ہیں جب کہ ن لیگ نے جو سیٹیں جیتیں وہ بھی جائز ہیں۔لیکن عمران خان کا وزیراعظم ہونا درست نہیں لہذا ہم ان سے استفعیٰ لے کر رہیں گے۔ ۔آزادی مارچ میں شریک اکثر کارکنان کو اپنے قائد کی سیاسی خدمات تک معلوم نہیں ہیں۔بظاہر لگ رہا تھا کہ ان کارکنان کو بس یہ پیغام دیا گیاہے کہ آپ نے جلسے میں شریک ہونا ہے، یہ نہیں واضح کیا گیا کہ مولانا کا ایجنڈا کیا ہے۔اس کے برعکس اگر ماضی میں نظر دوڑائی جائے تو جلسوں اور دھرنوں کی روایت ڈالنے والے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے لوگوں کو نہ صرف سیاسی شعور دیا بلکہ یہ بھی بتایا کہ ان کا اصل ایجنڈا کیا ہے۔

تازہ ترین خبریں