02:17 pm
آزادی مارچ کے نتیجے میں عمران خان استعفیٰ دینے والے ہیں یا نہیں ؟ کور کمیٹی اجلاس میں بہت بڑا فیصلہ کر لیا گیا ، آج کی سب سے بڑی خبر

آزادی مارچ کے نتیجے میں عمران خان استعفیٰ دینے والے ہیں یا نہیں ؟ کور کمیٹی اجلاس میں بہت بڑا فیصلہ کر لیا گیا ، آج کی سب سے بڑی خبر

02:17 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آزادی مارچ کے نتیجے میں عمران خان استعفیٰ دینے والے ہیں یا نہیں ؟ کور کمیٹی اجلاس میں بہت بڑا فیصلہ کر لیا گیا ، آج کی سب سے بڑی خبر ۔۔۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت کور کمیٹی کا اجلاس ختم ہو گیا۔حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اپوزیشن سے رابطوں پر وزیراعظم عمران خان کو آگاہ کر دیا ہے۔پرویز خٹک نے وزیراعظم کو آزادی مارچ کے حوالے سے مختلف تجاویز سے آگاہ کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم کو مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرانے کی ہدایت کی ہے۔حکومتی مذاکراتی ٹیم میں یہ فیصلہ کیا جائے گا
کہ نہ تو وزیراعظم عمران خان مستعفی ہوں گے اور نہ ہی دوبارہ انتخابات ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق پرویز خٹک کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے آج کور کمیٹی اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں آزادی مارچ سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔حکومتی مذاکراتی ٹیم نے اجلاس میں نئے انتخابات کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اپوزیشن کا کوئی بھی غیر آئینی مطالبہ منظور نہیں کیا جائے گا۔آئینی حق تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو احتجاج کرنے کی اجازت دی گئی۔اپوزیشن کا احتجاج احتساب کاعمل روکنے کی کوشش ہے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے مارچ کے شرکاء جب تک بیٹھنا چاہیں اجازت دی جائے گی۔دھرنے کے شرکاء کے ہاتھوں بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے۔وزیراعظم عمران خان نے وزارت داخلہ کو تیاری مکمل رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے پر فوری کاروائی کی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ غیر جمہوری اور غیر آئینی مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔وزیراعظم نے حکومتی کمیٹی کو رہبر کمیٹی سے بات چیت جاری رکھنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کا حکومتی کمیٹی میں کہنا تھا کہ اپوزیشن نے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تو مذاکرات نہیں ہونے چاہیں۔انہوں نے کہا رہبر کمیٹی سے ملاقات کے بعد آگاہ کیا جائے کہ وہ کون سا جمہوری حق مانگ رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی طرف سے استعفیٰ کا مطالبہ بھی حماقت ہے۔حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ معاہدہ کر کے انہیں جمہوری حق دیا ہے،پھر بھی اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔