04:39 pm
پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کردی گئی

پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں کی تجویز پیش کردی گئی

04:39 pm

جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ۔ ف) کے آزادی مارچ کے اسلام آباد میں پڑاؤ کا آج تیسرا دن ہے، دھرنے کے شرکاء پشاور موڑ پر ایچ 9 گراؤنڈ میں موجود ہیں۔ گزشتہ روز جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزير اعظم عمران خان کو مستعفی ہونے کیلئے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تھی اور اس مہلت کا آج پہلا دن ہے۔ آج ہونے والے اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں وزیراعظم کے استعفے پر متفق ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں، ملگ گیر شٹر ڈاؤن اور ہائی ویز کو بلاک کرنے سمیت دیگر آپشنز زیر غور ہیں۔
فضل الرحمان نے گزشتہ روز کہا تھا کہ وزیراعظم نے دو روز میں استعفیٰ نہ دیا تو یہ اجتماع قدرت رکھتا ہے کہ خود وزیر اعظم کو گھر جا کر گرفتار کر لے البتہ ہم پُرامن لوگ ہیں چاہتے ہیں کہ پُرامن رہیں، اداروں کے ساتھ کوئی لڑائی یا تصادم نہیں،اداروں کا استحکام چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ادارے بھی غیر جانب دار رہیں۔ خیال رہے کہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان معاہدہ طے پایا ہے کہ اپوزیشن اسلام آباد کے ایچ 9 گراؤنڈ میں جلسہ کرے گی اور وہاں سے آگے نہیں بڑھے گی۔ حکومت کی جانب سے جاری این او سی کے مطابق آزادی مارچ میں 18 سال سےکم عمر بچے شرکت نہیں کریں گے، مارچ قومی املاک کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچائے گا، آزادی مارچ کے شرکا سٹرکیں اور راستے بند نہیں کریں گے، شرکاء کسی سرکاری عمارت میں داخل نہیں ہوں گے۔البتہ گزشتہ روز فضل الرحمان نے ڈی چوک کی جانب بڑھنے کا اشارہ دیا تھا جس کے بعد حکومتی کمیٹی نے اپوزیشن پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے کنوینر اکرم خان درانی نے کہا ہے کہ اجلاس میں پارلیمنٹ سے مشترکہ طور پر استعفے کی تجویز زیر غور ہے۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کے اجلاس کے بعد ارکان نے پریس کانفرنس کی، کنوینر اکرم درانی کا کہنا تھا کہ کل رات اے پی سی فیصلہ ہوا تھا کہ رہبرکمیٹی مستقبل سے متعلق فیصلہ کرے گی لہٰذا تمام جماعتوں نے وزیراعظم کے استعفیٰ کے مطالبے پر اتفاق کیا ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو پارلیمنٹ سے اجتماعی استعفوں، ملک گیر شٹر ڈاؤن اور ہائی ویز کو بلاک کرنے سمیت دیگر آپشنز زیر غور ہیں۔