04:14 pm
مجلس شوریٰ کا اجلاس اختتام پزیر، ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے گی یا نہیں، فیصلہ سنا دیا گیا

مجلس شوریٰ کا اجلاس اختتام پزیر، ڈیڈ لائن میں توسیع کی جائے گی یا نہیں، فیصلہ سنا دیا گیا

04:14 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان ہے، مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا 5 گھنٹے پر مبنی اجلاس ہوا، وزیراعظم کے استفعے کی مہلت ختم ہونے کے بعد آئندہ کی صورتحال پرغور کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سربراہ جے یوآئی ف مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔ جس میں وزیراعظم کے استفعے کی مہلت ختم ہونے کے بعد آئندہ کی صورتحال اور رہبرکمیٹی کی تجاویز پرغور کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کی زیرصدارت مجلس شوریٰ کا اجلاس 5 گھنٹے تک جاری رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمیعت علماء اسلام کی جانب سے ڈیڈ لائن میں توسیع کا امکان ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے جمعے کو آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کو استعفا دینے کیلئے 2 دن کی مہلت دی تھی۔ اسی طرح اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کے اجلاس میں کچھ تجاویز پر بھی غور کیا گیا جس میں لاک ڈاؤن اور اسمبلیوں سے استعفے دینے کا آپشنز بھی شامل ہے۔ دوسری جانب حکومت نے آزادی مارچ والوں کی ڈیڈ لائن ختم ہونے اور آئندہ کی ممکنہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر بھرپور سکیورٹی کی تیاری کرلی ہے۔حکومت نے دھرنے والوں کی پیش قدمی ہرصورت روکنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ڈی چوک اورڈپلومیٹک انکلیو کے راستوں کو مکمل سیل کردیا گیا ہے۔اسی طرح ایوان صدر، وزیراعظم ہاؤس اور پارلیمنٹ کی طرف جانے والے راستوں پر کنٹینرزرکھ دیے گئے۔ بتایا گیا ہے کہ پیش قدمی کرنے والوں پرہیلی کاپٹرسے بھی شیلنگ کی جائے گی۔ حساس مقامات اور ڈی چوک کے راستوں پر پولیس، رینجرز پر مشتمل 15 ہزار سکیورٹی کی بھاری نفری تعینات بھی کردی گئی ہے۔ مزید برآں حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کیا ہے، جس میں انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے درخواست کی ہے کہ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے افہام وتفہیم سے حل کیا جاسکتا ہے، لہذا دھرنے اور احتجاج کی بجائے معاملات کو مل بیٹھ کر حل کیا جائے۔ واضح رہے آج حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا اہم اجلاس بھی ہوا ہے ، جس میں آزادی مارچ سے متعلق آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی ہے۔ اسی طرح وزیر اعظم عمران خان نے ایک بار پھر اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ این آر او کا مطلب ملک سے غداری ہوگا ، یہ لوگ میرے منہ سے این آراو سننا چاہتے ہیں، کبھی نہیں دونگا ۔