07:04 am
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا استعفیٰ نہ پہلے مانگا تھا اور نہ اب ہماری ڈیمانڈ میں شامل ہے، مو لا نا

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا استعفیٰ نہ پہلے مانگا تھا اور نہ اب ہماری ڈیمانڈ میں شامل ہے، مو لا نا

07:04 am

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جمعیت علمائے اسلام ۔ ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتوار کو وزیر اعظم عمران خان کو مستعفیٰ ہونے کے لیے اپنی دو دن کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔جے یو آئی ۔ ف نے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ شروع ہونے سے پہلےمقامی انتظامیہ سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ آزادی مارچ طے شدہ مقام پر ہی رہے گا لیکن مولانا فضل الرحمٰن نے اسلام آباد پہنچنے کے بعد جلسے سے اپنے خطاب میں کہا تھا دھرنے کے شرکا ریڈ زون میں ڈی چوک کی جانب مارچ کر سکتے ہیں
جس کے بعد اسلام آباد انتظامیہ نے سیکٹر ایچ نائن میں جلسہ گاہ کے اطراف سکیورٹی سخت کرتے ہوئے آنے جانے کے راستے بلاک کر دیے۔مولانا فضل الرحمٰن سے سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ کی ڈیمانڈ میں آرمی چیف کے بھی استعفیٰ شا مل کیو ں کہ سوشل میڈیا پر ’ایک نہیں دو استعفے‘ کا ٹرینڈ چل رہا ہے تو آپ اس پر کیا کہیں گے تو انہوں نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا استعفیٰ نہ پہلے مانگا تھا اور نہ اب ہماری ڈیمانڈ میں شامل ہے۔