05:29 pm
شاہد خاقان عباسی کے حکم پر ایل این جی ٹینڈر جاری کیا، مبین صولت

شاہد خاقان عباسی کے حکم پر ایل این جی ٹینڈر جاری کیا، مبین صولت

05:29 pm

اسلام آباد(آن لائن) وزارت پٹرولیم کے ذیلی ادارہ آئی ایس جی ایس کے سربراہ مبین صولت نے ایل این جی کرپشن سکینڈل بارے اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے اور کرپشن اور ایل این جی ٹینڈرز کی ذمہ داری سیکرٹری پٹرولیم پر عائد کر دی ہے، نیب کو جاری کئے گئے تحریری بیان کی کاپی ذرائع سے حاصل کر لی گئی ہے جن میں ایل این جی کرپشن سکینڈل کے بڑے ملزم مبین صولت نے موقف اختیار کیا ہے کہ آئی ایس جی ایس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز جس کے سربراہ سیکرٹری پٹرولیم ہیں نے ایل این جی ٹینڈر جاری کرنے کی سفارش کی تھی اس ادارہ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں جوائنٹ سیکریٹری پٹرولیم، ایڈیشنل سیکریٹری پٹرولیم ایم ڈی سوئی سدرن گیس کمپنی، ایم ڈی سوئی نادرن گیس کمپنی، چیف سیکریٹری بلوچستان شہزاد علی خان، زبیر موتی والا پر الزام عائد کیا جارہا ہے
کہ سوئی سدرن بورڈ اور آئی ایس جی ایس بورڈ کی ہدایت اور سفارش پر ایل این جی کا ٹینڈر جاری کیا گیا تھا، اپنے تحریری بیان میں مبین صولت نے کہا ہے کہ اعلیٰ اختیارات کے حامل شخصیت شاہد خاقان عباسی پر الزام عائد گیا ہے کہ ان کے حکم کے عین مطابق (OED)نامی کنسلنٹنٹ کمپنی کا سروس حاصل کئی گئی تھی اور ٹینڈر دستاویزات کو حتمی شکل دینے کیلئے سوئی سدرن کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا گیا تھا اس حوالے سے سدئی سدرن حکام نے راحت کمال نامی شخص کو اپنا نمائندہ بنا رکھا ہے جس کے ساتھ دو طرفہ تعاون کرنے کا حکم بیان میں اقرار کیا ہے، شاہد خاقان عباسی نے ایل این جی کی جلد درآمد کیلئے ایف ایس آر یو طریقہ کار اپنانے کا حکم بجا لایا، نیب حکام نے مبین صولت کے اقراری جرم کی اعلی پیمانے پر تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور قانون کے مطابق جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، نیب حکام نے بتایا ہے کہ مبین صولت اہم عہدے پر فائز ہے اور اچھے غلام کی طرح نہیں بلکہ اچھا انسان اور اچھا افسر ہونے کے ناطے انہیں قومی ذمہ داری ملکی قانون کے مطابق ادا کرنا تھا، مبین صولت نے ملکی قانون اور اپنا مائنڈ استعمال کرنے کی بجائے غلاموں کی طرح اپنے آقا کے حکم کی بجاآوری لاتے رہے جس کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں کوئی قانون حیثیت نہیں ہے، اگر کوئی افسر اپنا مائنڈ اور قوانین کی پرداہ نہیں کرتا تو ایسے شخص کو بڑا عہدہ رکھنے کا کوئی حق نہیں ایک قومی ادارہ کا سربراہ بننا اور حکمرانوں کا غلام بننے میں فرق ہونا چاہئے، نیب حکام نے ایل این جی سکینڈل میں شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر رکھا ہے جبکہ مبین صولت اقراری جرم کرنے کے بعد وعدہ معاف گواہ بن کر قومی خزانہ کو لوٹنے میں مصروف ہے، مبین صولت نے بیرونی دورے کرانے کے بعد وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ افسران کو اپنا مطیع کر رکھا ہے، اور جلد وزارت پٹرولیم کے وہ افسران جو بورڈ میں شامل تھے کو بھی جلد گرفتار کر لیا جائے گا اس حوالے سے وزارت پٹرولیم کے اعلیٰ حکام بالکل خاموش تھے۔

تازہ ترین خبریں