04:32 pm
سینیٹ اجلاس : حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری

سینیٹ اجلاس : حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری

04:32 pm

اسلام آباد( آن لائن ) سینیٹ اجلاس کے دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان آزادی مارچ کے حوالے سے ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری جاری رہی جب کہ وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کردیا۔چیئرمین صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا جس میں آزادی مارچ کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملک میں ڈیڑھ سال بعد مڈ ٹرم الیکشن کی تاریخ موجود ہے، ماضی میں قبل از وقت الیکشن ہوتے رہے ہیں، حکومت میں صلاحیت ہوتی تو تاجر برادری کو آرمی چیف سے ملاقات نہ کرنا پڑتی،
ملک میں تاجر، کسان، ڈاکٹرز، نرسز، اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں اور ہیجانی کیفیت ہے، حکومت نے سیکورٹی کے نام پر شاہراہیں بند کر رکھی ہیں، لاک ڈائون جے یو آئی نے نہیں حکومت نے کیا ہے۔مراد سعید کی تقریر کے دوران سینیٹ میں ہنگامہ آرائی ہوئی اور اپوزیشن ارکان نے احتجاج کیا۔ وفاقی وزیر مراد سعید نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس تحریک انصاف نہیں لائی تھی، دنیا بھر کے انویسٹگٹیو رپورٹرز نے یہ رپورٹ بنائی تھی، مولانا فضل الرحمن کا گو امریکا گو کا نعرہ دراصل چلو امریکا چلو ہے، ہم نے خود دیکھا کہ یہ ایک دوسرے کو اٹھ کرچور کہتے ہیں اور آج ایک ساتھ کھڑے ہیں، وکی لیکس میں آیا کہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجھے خدمت کاموقع دو، یہ لوگ اسلام کارڈ استعمال کررہے ہیں، آپ نے سندھ کا پیسہ اپنے اکاونٹ میں ڈالا، جو پیسہ سندھ کی ترقی پر لگانا تھا وہ فالودے اور سموسے والے کے اکاونٹ سے نکلتا ہے، تھر کی رپورٹ آئی کہ سینکڑوں بچے بھوک سے مرگئے۔رضا ربانی نے کہا کہ آج بزنس مین نیب قانون کے بارے میں آرمی چیف کو شکایت کر رہے ہیں، نیب کا قانون کالا ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اسے نہ بدل کر کوتاہی کی، شوکت عزیز پر کرپشن کیسز ہیں، لِیکن دوسری طرف سابق وزیر اعظم نواز شریف کے کیسز آپکے سامنے ہیں، آصف زرداری کا کیس ہمارے سامنے ہے، جبکہ مشرف کو عدالت جاتے ہوئے اسپتال لے جایا گیا اور پھر بیرون ملک بھیج دیا گیا، وہاں سے اس کی ڈانس کی ویڈیوز آتی ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی لوگوں کے کیسز اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے کیسز میں فرق ہمارے سامنے ہے۔سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ لیڈر کو دھرنا لیڈ کرنا ہوتاہے فضل الرحمن نے خود کمروں میں بیٹھ کر عوام کو بارش میں چھوڑ دیا، انکو اب واپس جانا چاہیے، مدرسے کے طلبا کو دھرنے میں لایا گیا ہے، مولانا صاحب ہر حکومت میں رہے ہیں، اب کال کرتے ہیں تو جواب آتا ہے مطلوبہ نمبر سے رابطہ ممکن نہیں، برائے مہربانی چار سال بعد رابطہ کریں