04:49 pm
قصور ،سے اغواء ہونے والی 8سالہ طیبہ کا ڈراپ سین

قصور ،سے اغواء ہونے والی 8سالہ طیبہ کا ڈراپ سین

04:49 pm

قصور ( آ ن لا ئن ) گزشتہ روز تھانہ صدر قصور کے علاقہ علی پارک سے اغواء ہونے والی 8سالہ طیبہ کا ڈراپ سین، والدین نے مخالفین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کیلئے اپنی ہی بچی کے اغواء کا ڈرامہ رچایا اور آج والدین نے اپنی ہی بچی کو قتل کر کے فیروز پور روڈ بلاک کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی تھی کہ پولیس ٹیموں نے انتہائی قلیل وقت میں بروقت کاروائی کرتے ہوئے والدین کے شرمناک منصوبے کو بے نقاب کردیا ، مغویہ طیبہ فیصل آباد سے برآمد ، بچی کا والدعبدالحمید ، ماموں اشفاق اور دو کزن وقاص اور عرفان گرفتار۔تفصیلات کے مطابق ایس پی انویسٹی گیشن قدوس بیگ نے تھانہ صدر قصور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ روز روڈ کوٹ کے رہائشی عبدالحمید ولد گلاب نے15پر پولیس کو اطلاع دی
کہ سائل کی 8سالہ بیٹی طیبہ صبح 6بجے قرآن مجید پڑھنے کیلئے جامع مسجد نوشاہی قادری علی پارک گئی تو 7بجے تک واپس نہ آئی جس پر سائل نے بیٹی کو ڈھونڈا لیکن وہ نہ مل سکی جس پر تھانہ صدر قصور پولیس فوری موقع پر پہنچی،حالات و واقعات کا جائزہ لیا ، ڈی پی اوقصور زاہد نواز مروت بھی موقعہ پر پہنچے،والدین سے ملاقات کی اور انھیں تسلی دی کہ جلد بچی کو برآمد کرلیا جائے گا،طیبہ کے اغواء کا معاملہ انتہائی حساس نوعیت کا تھا کیونکہ ضلع قصور میں بچوں اور بچیوں کے اغواء اور زیادتی کے بعد قتل کے متعدد واقعات رونما ہو چکے ہیں۔جس پر ڈی پی او قصور نے ڈی ایس پی صدر سرکل عالم شیر جاوید، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر اشفاق حسین کاظمی کی زیر نگرانی ایس ایچ او صدر قصور انسپکٹر حسیب،ایس ایچ او اے ڈویژن وحید عارف، ایس ایچ او بی ڈویژن انسپکٹر میاں فرید، ایس ایچ او الہٰ آباد انسپکٹر ملک طارق محمود اور ملک کفایت حسین سی آئی اے قصور پر مشتمل سپیشل ٹیمیں تشکیل دیں۔پولیس ٹیموں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت کیساتھ بچی کی تلاش کیلئے اپنی کوششیں شروع کردیں۔ دوسری طرف مدعی عبدالحمید نے تھانہ صدر قصور میں اپنی بیٹی کے اغواء کا مقدمہ اپنے مخالفین کے خلاف درج کروادیااور نامزد ایف آئی آر مخالفین کو بھی شامل تفتیش کرکے انٹیروگیٹ کیاگیا ۔پولیس ٹیموں نے مغوی طیبہ کی برآمد گی کیلئے مساجد میں اعلانات کروائے، سوشل میڈیا پر بچی کی تصویر وائرل کی ،سیف سٹی کیمروں کوواچ کیا گیا، اس کے بعدرات کے وقت علاقے کا سرچ آپریشن کیا،گھر گھر تلاشی لی، ویران جگہوں، زیر تعمیر مکان اور تالاب و جوہڑ وغیرہ چیک کیے لیکن بچی کا کوئی سراغ نہ مل سکا ، پولیس ٹیموں نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے سی ڈی آر جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایااور ساتھ ہی ساتھ مدعی مقدمہ سے بھی سوالات کیے گئے جو مناسب جوابات نہ دے سکا اور شک گزرنے پر رات 2بجے مدعی عبدالحمید کو بتائے بغیر پولیس کی ایک ٹیم فیصل آباد روانہ کی گئی جہاں پر مدعی عبدالحمید کے رشتہ دار رہائش پذیر تھے جہاں پر پولیس نے مغوی طیبہ کو اسکے ماموں اشفاق کے گھر سے برآمدکرلیا ،پولیس نے طیبہ کے والد عبدالحمید،ماموںاشفاق اور دوکزن وقاص اور عرفان کو حراست میں لے لیا ہے۔ دوران تفتیش مدعی مقدمہ نے انکشاف کیا کہ اس کا مخالفین کے خلاف عرصہ دراز سے جھگڑا چلا آرہا تھا اور مقدمہ بازی سے تنگ آکر مخالفین کو جھوٹے مقدمہ میں پھنسانا چاہتا تھاجس پر میں نے اپنی بیٹی طیبہ کو اغواء کا ڈرامہ رچاکر قتل کرنے کا منصوبہ بندی کی اور آج ہم طیبہ کو قتل کرنے والے تھے کہ پولیس نے رات کے وقت طیبہ کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ ملزم عبدالحمیداور اسکے دیگر رشتہ داروں نے مجرمانہ اور شرمناک فعل کرکے پورے شہر کے امن وامان کو خراب کرنے کی کوشش کی، پولیس اور میڈیا کو دھوکے میں رکھا ، پولیس کی لاجسٹک اور وقت ضائع کیا جن کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جارہا ہے۔ قصور پولیس نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی قلیل وقت میں والدین کے شرمناک منصوبے کو بے نقاب کیا، یاد رہے قصور پولیس نے گزشتہ ایک ماہ کے دوران 40سے زائد لاپتہ بچوں اور بچیوں کو ڈھونڈ کر والدین کے حوالے کیا ہے ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اور آرپی او شیخوپورہ ریجن سہیل حبیب تاجک نے پولیس ٹیموں کے بروقت ایکشن پر شاباش دی۔

تازہ ترین خبریں