05:19 pm
ڈیوٹی اوقات میںہڑتال کرنا جرم ہے، اب کوئی ڈاکٹر ہڑتال کرتا نظر نہ آئے، لاہور ہائیکورٹ نےسخت پابندی عائد کرتے ہوئے بڑاحکم جاری کردیا

ڈیوٹی اوقات میںہڑتال کرنا جرم ہے، اب کوئی ڈاکٹر ہڑتال کرتا نظر نہ آئے، لاہور ہائیکورٹ نےسخت پابندی عائد کرتے ہوئے بڑاحکم جاری کردیا

05:19 pm

لاہور(نیوز ڈیسک) ہائی کورٹ نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکس کو آج ہڑتال ختم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔جسٹس جواد حسن نے کیس کی سماعت کے دوران حکم دیا ہے کہ مسائل سننے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے گی تاہم ڈاکٹرز تحریری طور پر لکھ کر دیں کہ ہڑتال ختم کر دیں گے۔عدالت نے وکیل صفائی کو کہا آپ اپنے موکل کے مشورے پر عمل نہ کریں بلکہ انہیں بتائیں کہ قانون کیا کہتا ہے، ہڑتال کیا ہے، کیا اس کی پاکستان میں اجازت ہے، کیا ڈیوٹی کے دوران کہیں جا سکتے ہیں۔سیکرٹری ہیلتھ نے عدالت کو بتایا کہ ایم ٹی آئی قانون بنانے میں سب کو شامل کیا گیا تھا
لیکن ایک مخصوص طبقہ ہڑتال کررہا ہے۔عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ہڑتال کرنے والوں کو سننے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی تھے۔ جج نے ریمارکس دیے آپ نے کمیٹی بنائی جب ہڑتال عروج پر پہنچ گئی۔جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس بارے تفصیلی حکم جاری کرے گی، یہ سیکرٹری صحت کا قصور ہے کہ معاملہ ابھی تک لٹکا ہے، جب تک تمام اسٹیک ہولڈر نہیں بیٹھتے مسئلہ حل نہی ہوتا، ڈیوٹی اوقات میں ہڑتال کرنا جرم ہے. عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکلا بھی ہڑتال کرتے ہیں لیکن اہم کیسز میں عدالت میں پیش ہوتے ہیں، اس دوران ینگ ڈاکٹرز کو مشاورت کی ہدایت کرکے عدالت کو آگاہ کرنے کی ہدایت کی گئی‘عدالت نے ریمارکس دیے کہ ابھی تو آرڈیننس آیا ہے قانون تو بنا ہی نہیں پھر ہڑتال کیوں کی گئی، اس پر ینگ ڈاکٹر کے وکیل نے کہا ہم اچھا تاثردینے کے لیے ہڑتال ختم کررہے ہیں.ساتھ ہی وکیل نے کہا کہ ڈاکٹرز صرف اپنا موقف بیان کرنا چاہتا تھے، جذبات میں آنے کی معذرت کرتے ہیں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ پروفیشنلز نے معاشرے کو اپنی خدمات دینا ہوتی ہیں، عدالت اپنے فیصلے میں ہڑتال کے مستقبل کا بھی فیصلہ کرے گی. عدالت نے ریمارکس دیے کہ چیف سیکرٹری کی کمیٹی میں تمام فریقین کا موقف سنا جائے، ہڑتال تو اکتوبر سے چل رہی ہے تو پھر کمیٹی کل کیوں بنائی گئی، فریقین کے تحفظات کو سننے کے لیے اتنی تاخیر سے کیوں کمیٹی بنائی گئی‘ساتھ ہی عدالت نے کہا کہ اس قانون سے متعلق جتنے بھی فریق ہیں ان کا موقف سننا لازمی ہے، اس پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ یہ لوگ اب قانون کو ہی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں.اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ فی الحال تو ہڑتال ختم کرکے کام شروع کریں، جس پر وکیل نے صوبائی حکومت کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری صحت معاملے کو ڈرامے کے انداز میں بیان نہ کریں‘وکیل نے کہا کہ ینگ ڈاکٹرز قوم کا مستقبل ہیں، ان کے مستقبل کو بھی تحفظ ملنا چاہیے، اس پر سیکرٹری صحت پنجاب مومن آغا نے کہا کہ یہ قانون آرڈیننس سے بالکل مختلف ہوگا.سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ ایسی ہڑتال کرنے پر سپریم کورٹ کا بھی حکم موجود ہے، وہ کچھ قواعد و ضوابط کے پابند ہوتے ہیں‘اس پر ڈاکٹرز کے وکیل نے بتایا کہ ایسے قانون کے مسودے سے بھی ڈاکٹرز کا شعبہ متاثر ہوتا ہے، جو کمیٹی بنائی گئی ہے اس میں ڈاکٹرز کے نمائندے بھی شامل نہیں ہیں، جس پر جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ڈاکٹرز کے علی رضا، وکیل عابد ساقی، وائے ڈی اے کے صدر اور جنرل سیکرٹری کو بھی اس کمیٹی میں شامل کیا جائے، یہ کمیٹی اس پر مشاورتی ورکشاپ کرے گی.جسٹس جواد حسن نے کہا کہ اس کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے،تاہم ڈاکٹرز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جبکہ ڈاکٹرز بھی ہڑتال نہیں کریں گے اس پر سیکرٹری صحت نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو پہلے ہی اظہار وجوہ کے نوٹسز جاری ہیں، جس پر عدالت نے کہا وہ اس پر جواب دیں. بعد ازاں عدالت نے حکم دیا کہ ڈاکٹرز ہڑتال ختم کریں اور خوشی سے جاکر کام شروع کریں، جس پر وکیل نے عدالت میں کہا کہ ہم عدالتی حکم پرعمل کریں گے اور آج ہی ہڑتال ختم کریں گے، ہم عدالت کے ساتھ کھڑے ہیں ساتھ ہی عدالت نے آرڈیننس سے متعلق سیکرٹری صحت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا بھی حکم دے دیا اور مذکورہ کیس کی سماعت 2 دسمبر تک ملتوی کردی .دوسری جانب گرینڈ ہیلتھ الائنس کے چیئرمین ڈاکٹر سلمان چوہدری نے بتایا کہ ہم ہڑتال ختم نہیں کر رہے جب تک محکمہ صحت ہماری ساری بات نہیں سنتا، اس ایکٹ کو ختم نہیں کرتا اور ہمارے مطالبات نہیں تسلیم کرتے ہم ہڑتال ختم نہیں کریں گے. خیال رہے کہ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 کے خلاف پنجاب کے ینگ ڈاکٹرز گزشتہ کئی روز سے ہڑتال پر ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت اس آرڈیننس کو ختم کرے۔اس آرڈیننس پر ڈاکٹروں کا یہ موقف ہے کہ اس ایکٹ سے سرکاری ہسپتالوں کو پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرح کیا جارہا ہے، جس سے ان کی ملازمتیں بھی پراؤیٹ ہوجائیں گی اسی طرح ان کا یہ بھی موقف ہے کہ اس ایکٹ سے ابتدائی طور پر سرکاری ہسپتالوں میں ٹیسٹوں کی فیسز میں اضافہ کیا گیا اور اب اس کا مکمل نفاذ کرکے سرکاری ہسپتالوں کو نجی کر رہے ہیں۔