06:31 am
ہم سخت سردی میں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر مولاناصاحب کنٹینر میں حلوہ کھارہے ہیں

ہم سخت سردی میں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر مولاناصاحب کنٹینر میں حلوہ کھارہے ہیں

06:31 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے شرکاء نے اسلام آباد سے واپسی کا سفر شروع کر دیا۔تفصیلات کے مطابق معروف صحافی رانا عظیم کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کے حوالے سے بہت بڑی پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں کیونکہ آزادی مارچ سے ایک بہت برا مجمع واپس جا چکا ہے۔کیونکہ اب رائیونڈ اجتماع کے دوسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز ہو گیا،رائیونڈ اجتماع کا یہ آخری دور ہے جس میں اِن کے لوگوں نے آنا ہی آنا ہے۔اگر کوئی کمیرا مین وہاں جا کر رپورٹنگ کرے تو اندازہ ہو گا کہ بہت ساری گاڑیاں واپس جا رہی ہیں۔آنے والے دنوں میں وہاں پر مزید بارشوں کی بھی پیشگوئی کی گئی ہے۔رانا عظیم کا کہنا تھا کہ کئی کارکنان اس بات پر مایوس ہیں کہ ہم یہاں سخت سردی میں بیٹھے ہیں
جب کہ ٹی وی پر چل رہا ہے کہ مولانا صاحب کنٹینر پر حلوہ کھا رہے ہیں۔ٹی وی میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کا کوئی بھی سینئیر رہنما کارکنان کے درمیان موجود نہیں ہے۔جب مولاما فضل الرحمن کے صاحبزادے آزادی مارچ میں آئے تو جہاں پہلے کارکنان ان کے ہاتھ چوما کرتے تھے ،اس بار انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔قصہ مختصر یہ ہے کہ دھرنے کو ہر صورت میں 9نومبر سے قبل ختم ہونا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل بھی رانا عظیم یہ کہہ چکے ہیں کہ ۔اس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مولانا فضل الرحمن جب لاہور میں داخل ہوئے تو ان کے ساتھ 25 سے 30 ہزارلوگ تھے۔لیکن جب وہ لاہور سے نکلے تو ان کے ساتھ 7 سے 8ہزار لوگ رہ گئے تھے جب کہ دیگر افراد رائیونڈ اجتماع میں چلے گئے تھے۔ اور یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہئیے کہ 7 نومبر کو پھر سے رائیونڈ اجتماع شروع ہو رہا ہے۔اور یہی لوگ رائیونڈ اجتماع کے دوسرےمرحلے میں چلے جائیں گے۔