01:38 pm
فضل الرحمٰن کی شرط اگرمیرااستعفیٰ ہے تو۔۔۔۔عہدہ چھوڑنے سے متعلق عمران خان نے اعلان کردیا

فضل الرحمٰن کی شرط اگرمیرااستعفیٰ ہے تو۔۔۔۔عہدہ چھوڑنے سے متعلق عمران خان نے اعلان کردیا

01:38 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم عمران خان نے حکومتی مذاکراتی ٹیم سے ملاقات میںکہاہے کہ میں کسی بھی صورت میں اپنااستعفیٰ نہیں دوں گااگرشرط صرف استعفیٰ کی ہے توپھرمذاکرات کاکیافائدہ ۔وزیردفاع کی سربراہی میں حکومتی مذاکراتی کمیٹی ٹیم اورسپیکرپنجاب اسمبلی چوہدری پرویزالٰہی نے وزیراعظم عمران خان سےملاقات کی اوراپوزیشن کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ انہوں نے کھلے دل سے احتجاج اورمارچ کی اجازت دی لیکن اگرشرط صرف استعفیٰ کی ہے تومذاکرات کاکیافائدہ ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں جبکہ ساتھ ہی انہوں نے 2018 کے عام انتخابات کے دوران مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بھی تیار ہونے کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی جانب سے اسلام آباد میں 'آزادی مارچ' جاری ہے جو ایک دھرنے کی شکل اختیار کرگیا ہے کیونکہ 8 روز سے شرکا وہاں موجود ہیں اور آئندہ کتنے دن وہاں موجود رہتے ہیں اس بارے میں ابھی کچھ علم نہیں۔ 8روز سے جاری اس آزادی مارچ میں اب تک کوئی ایسی اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ مارچ کے شرکا نے کسی املاک کو نقصان پہنچایا۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا یہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں، نئے انتخابات کروائے جائیں اور اس میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو۔تاہم وزیراعظم کی جانب سے مولانا فضل الرحمٰن کے استعفیٰ کے مطالبے کو مکمل طور پر مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وزیراعظم کے استعفیٰ پر کوئی بات نہیں ہوگی۔واضح رہے کہ آزادی مارچ کے پیش نظر وزیراعظم عمران خان نے وزیردفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں 7 رکنی مذاکراتی کمیٹی قائم کی تھی۔اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی اس کمیٹی کی متحد اپوزیشن کی بنائی گئی رہبر کمیٹی سے متعدد ملاقاتیں ہوچکی ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے باوجود دونوں فریقین میں استعفیٰ کے معاملے پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔

تازہ ترین خبریں