03:59 pm
پیپلز پارٹی بے نظیر اور بھٹو کا نام چھوڑ کر مولانا کی بیعت کر لے،حکومت

پیپلز پارٹی بے نظیر اور بھٹو کا نام چھوڑ کر مولانا کی بیعت کر لے،حکومت

03:59 pm

اسلام آباد(آن لائن )حکومت نے سینٹ اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کو طعنہ دیتے ہوئے کہا کہ لبرل ازم کا نام لینا چھوڑ دیں،شہید بے نظیر اور ذوالفقارعلی کا نام بھی نہ لیا جائے ،پوری پارٹی مولانافضل الرحمن کی بیعت کر لے،مذہبی ٹھیکدار فتوے اپنے پاس رکھیں،اپوزیشن ارکان نے احتساب کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی چھتری تلے جان و مال کی امان جبکہ اپوزیشن کے شیڈ میں جانے والے مقدمات میں پھنسائے جا رہے ہیں ،سینٹ میں اپوزیشن سنیٹرز نے دھرنا کو جائز قرار دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کے جائز مطالبات فوری طور پر تسلیم کرنے کا بھی مطالبہ کر دیا ہے ۔حکومتی بیانیہ کے بعد ایوان میں شور شرابہ،اور واک ائوٹ ،کورم کی نشاندہی پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔گزشتہ روز چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت سینٹ کا اجلاس شروع ہوا
تو اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے ایوان میں جمع کرائی جانیوالی تحریک پر بحث کا آغاز ہوا ۔ نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر طاہر بزنجو نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو نظر انداز کر کے کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی کسی ثبوت کے بغیر سیاسی حریفوں کو جیلوں میں بند کر کے ر کھا ہے ہم سیاسی لوگ احتساب کے حق میں ہیں بلکہ جمہوریت کی نشو نما ہوتی ہے وزیر اعظم جب بڑے عہدہ پر فائز ہو گئے ہیں تو پھر اپنے آپ کو برداشت کی بھی عادت ڈالیں۔ سینیٹر میر جان جمالی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ ہر جمہوری دور میں شروع ہو ا لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے ہمیں پاور کا پتہ نہیں چل رہا ہے سابق وزیرا عظم نواز شریف کی جان کو خطرہ ہے اور وزیر اعظم انکے بھی ہیں انہیں چاہیے کہ انکے پاس جا کر سابق صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے بھیج دیں اس سے ملک کا نام بلند ہو گا۔دوسری جانب ہمارے علاقہ بلوچستان میں سوئی گیس تک نہیں لوگ لکڑیاں جلا کر گزارہ کر رہے ہیں،کیا یہ سیاسی انتقام نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج جتنا تنگ کرو گے کل جھیلو گے بھی سہی، اپوزیشن اور حکومت اب ہٹ دھرمی چھوڑیں ایک مٹھی بن کر مشترکہ بل پاس کریں یہاں انا کا مسئلہ ہے اگر حکومت بیہتر کام کررہی ہے تو انکی حوصلہ افزائی کی جاے دھرنا ایک دن کا ہو یا ایک سال کا ان کا حق ہے لیکن صبر کا مظاہرہ کیا جائے۔یہاں مسائل زیادہ ہیں کشمیر کے مسئلہ پر ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے اور اس سے پہلے سیاسی مسائل حل کیے جائیں خارجہ پالیسی ناکام ہو چکی ہے ادارے تباہی کے دہانے پر جانے لگا ہے اور یہ بات بھی اٹل ہے پی ایم ڈی سی آرڈیننس ختم کر کے ملازمین بحال کیے جائیں۔ سینیٹر سسی پلیجو نے کہا کہ سینیٹ اجلاس اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے اور بد قسمتی سے ایک وزیر کے علاوہ کوئی بھی موجود نہیں ہے۔بدقسمتی سے ایک دہائی پہلے کسی کو مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی رہی اور مسائل جوں کے توں رہے۔اور یہ بھی. دیکھا گیا کہ گیارہ گیارہ سال ڈکٹیٹر کی حکومت رہی اور جب ہم بچے تھے تو عید کے دن کوٹ لکھپت جیل کے سامنے گزارتے میرے تایا ماموں اور دیگر رشتہ دار بند تھے اور آج اسی ڈکٹیٹر شپ کو بھی روند دیا گیا ہے اور دشمنی میں ایک بندے کی شہریت بھی ختم کر دی سابق صدر آصف علی زرداری نے پاور میں آنے کے بعد سے پہلے پاور اسمبلی کو واپس کر دی اور اسی صدر سے انکی بیٹیوں کو ملاقات کی اجازت نہیں اور یہ سب کچھ ذاتی عداوت پر کیا جا رہا ہے آصف علی زرداری کو فوری رہا کر کے انکے علاج کے لیے موقع دیا جانا چاہیے اورآج شہر کنٹینر کنٹینر کر دیا گیا ایک مذہبی جماعت دھرنا دے کر بیٹھی ہے اور یہ دھرنا آج حرام اور کل حلال تھا۔سند ھ میں اٹھارویں ترمیم پر شب خون مارنے کی جستجو کی جا رہی ہے انکے ٹیکس کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جا رہی ہے د وسری جانب سندھ کو پیاسا رکھنے کے لیے چشمہ پاور پر لنک کنال بنائی جا رہی اور ہم کسی صورت ایسا نہیں کرنے دیں گے حکومت کو تکبر نہیں کرنا چاہیے آج وہ وہاں ہیں کل ہم بھی وہاں ہو سکتے ہیں۔ سینیٹر کبیر شاہی نے کہا کہ موجودہ حکومت جس انداز سے سیاسی انتقامی کارروائی کر رہی ہے اسکی مثال نہیں ملتی۔ڈکٹیٹر دور میں بھی ایسا نہیں تھا لیکن آج ایک چھتری کھڑی کر دی گئی جو حکومت کی چھتری کے نیچے ہے وہ اپنی امان میں ہے اور جو نہیں انکے خلاف کیس بنائے جا رہے ہیں اور یہ بھی بد قسمتی میں ایسا ہو رہا ہے کہ اپنے اپ کو بیمار ثآبت کرنے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔اوریا مقبول جان ہم سے بھی زیادہ کوئٹہ کو جانتا ہے وہ کہتے ہیں کہ حافظ حمد اللہ کا دادا پردادا ہی بلوچستان میں رہتے ہیں آج انہوں نے تنقید کی تو انہیں غیر ملکی بنا دیا گیا۔وزیر اعظم ایک بڑا عہدہ ہے اور وہ چائنہ اور امریکہ جاتے ہیں تو کہتے ہیں کہ چور وں کو پھانسی دوں گا اور نوا شریف کے اے سی اتاروں گا۔دوسری جانب ہم دھرنا کی حمایت کرتے ہیں اور ہم انکا حصہ ہیں داڑھی اور پگڑی کی ہم عزت کرتے ہیں اور انکو دہشت گرد کہا گیا اور مولانا کا شکریہ کہ انہوں نے پگڑی اور داڑھی کی عزت میں اضافہ کیا ہے سینیٹر مولانا فیض نے کہا ہمارے وزیر اعظم کی گفتار اور کردار میں فرق ہے ایک جانب امریکہ میں ختم نبوت پر تقریر اور ادھر قادیانی عاطف کو ایوان میں لے آئے آسیہ کو رہا کر دیا گیا اس موقع پر وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی اور شبلی فراز نے احتجاج کیا۔سینیٹر فیض نے مزید کہا کہ ہمارے لوگوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے اور یہاں علمائ� کو گالیا ں دی جاتی ہیں اور جو ایسا کرتے ہیں وہ قومیں تباہ ہو جاتی ہیں اور میں اعلان کرتا ہوں ہمارا دھرنا جب تک چلے گا امن سے ہو گا یہ پرامن لوگ ہیں دہشت گرد نہیں یہ پگڑی داڑھی بلوچی نہیں سنت رسولؐ ہے اور میری اپیل ہے کہ عمران خان سے کہو کہ ہماری جان چھوڑ دیں۔ قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ کرپشن اور سیاسی انتقام پر بحث کی جائے۔اس موقع پر سینیٹر پرویز رشید نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ جمہوری روایات کے خلاف ہے تو شبلی فراز نے کہا کہ میں بھی ایک سینیٹر ہوں اور حکومتی رکن ہوں، پرویز رشید نے کہا کیا آپ خدا ہو اس ہر ایوان میں شور شرابا برپا ہو گیا۔شبلی فراز نے کہا جب کوئی اپوزیشن رہنما گرفتار ہو جاتا ہے تو شور شروع کر دیا جاتا ہیکہ یہ سیاسی انتقام ہے اگر نیب کا قانون اب کالا ہو گیا تو کل جب دس سال سے انکی حکومت تھی ختم کیو ں نہیں کیا اور میں لاا لہ اللہ محمد رسول اللہ کہ کر کہتا ہوں کہ ہم سیاست میں اس لیے آئے کہ ان دو پارٹیوں کے کرتوت ختم کئے جا سکیں۔ملک کو کھوکھلا کر دیا گیا اور یہاں کبھی سیاست اور کبھی مذہب کے پیچھے چھپا جاتا ہے اور یہ مولانا فیض جیسے مذہبی ٹھیکیدار یہاں فتوے دیتے ہیں اور یہاں کسی کو قادیانی اور کسی کو شاتم رسول بنایا جاتا ہے شبلی فراز نے کہا کہ ہم احتساب کا نام لیکر حکومت میں آے اور جب پانچ سال مکمل ہوں ہمارا کڑا احتساب کیا جائے اور پاکستان پیپلز پارٹی والے آج کے بعد بھٹو کا نام زبان پر نہ لائیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کی بیعت کر لی ہے اس موقع پراپوزیشن نے احتجاج کیا اور شیریں رحمن کے کہنے پر اپوزیشن ارکان واک آوٹ کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور ہیپلز پارٹی کے سینٹرز چیئرمین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ جب پرویز رشید نے کہا تو آپ نے کہا کہ وہ ماحول ٹھیک کر رہے اور انہوں نے ماحول خراب کر دیا مولانا کوئی بات کرے تو وہ مذہبی کارڈ کہلاتا ہے اور ایک وزیر اعظم ہمہ وقت ریاست مدینہ کا نام لیں کہ وہ کیا وہ مذہبی کارڈ نہیں۔راجہ ظفر الحق نے کہا کہ قائد ایوان اپنے الفاظ واپس لیں جس پر شبلی فراز نے کہا کہ میں اپنے الفاظ کا اعادہ کرتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی لبرل نہیں وہ بے نظیر اور بھٹو کا نام نہ لیں اس پر اپوزیشن واک آوٹ کر گئی، اجلاس کے دوران چیرمین سینیٹ نے سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ سیکرٹری داخلہ یہاں اجلاس اور کمیٹیز میں نہیں آتے سینٹ شو کاز نوٹس جاری کرتی ہے، اجلاس کے دوران سینیٹر مولا بخش چانڈیو کیجانب سے کورم کی نشاندہی پر گنتی کے دوران صرف 7سینیٹرزموجود تھے جس پر چیرمین سینیٹ نے اجلاس ملتوی کردیا۔

تازہ ترین خبریں