03:18 pm
آئی ایس پی آرکے تعاون سے بنے ریکارڈ توڑ ڈرامے ’’عہدوفا‘‘ میں دکھائی جانیوالی تصویراصل میں کس کی ہے

آئی ایس پی آرکے تعاون سے بنے ریکارڈ توڑ ڈرامے ’’عہدوفا‘‘ میں دکھائی جانیوالی تصویراصل میں کس کی ہے

03:18 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک )شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے تعاون سے نجی ٹی وی اورپی ٹی وی پرنشرہونے والے ڈرامہ عہدوفاملک بھرمیں ناظرین کوپسندآیاہے اوراب تک اس کی 8اقساط نشرہوچکی ہیں ۔اس ڈرامے کی کہانی 4دوستوں کے گردگھومتی ہے جوکالج میں تواکٹھے تھے مگرپھرایک واقعے کےبعدان کی دوستی متاثرہوتی ہے اوروہ الگ ہوجاتےہیں ،احدرضامیرکاکردارسعد اپنے والدبریگیڈئرفراز کی طرح فوج میں چلاجاتاہے جبکہ عثمان خالدبٹ کاکردارشاہ زین جاگیردارگھرانے سے تعلق رکھتاہے ،ڈرامے کی آٹھویں قسط کے ایک سین نے سوشل میڈیاصارفین کے زہنوں میں بہت سے سوالات چھوڑے ہیں کہ آیااس سین میں ایک فوجی افسرکی نوجوان کودکھائی جانیوالی تصویراصل میں کس کی ہے اس قسط میں دکھایاگیاہے کہ ایک فوجی افسرواضح کرتے ہیں
کہ پاک فوج میں اعزازی تلواراورآگے بڑھنے کے مواقع صرف فوجیوں کے بچوں تک محدودنہیں ،اس سین میں وہ اپنے والدین کی تصویربھی دکھاتے ہیں جس میں بزرگ مرداورخاتون بیٹھے ہوتے ہیں ڈراے میں دکھائی جانیوالی تصویرمیں موجوداس جوڑے کی اصل داستان بھی دلوں کوچھولینے والی ہے۔درحقیقت یہ تصویرضلع چکوال کے قریبی علاقے ڈھڈیال سے تعلق رکھنے والے مظفرخان اوران کی اہلیہ عائشہ کی تھی .مظفر خان چالیس کی دہائی میں برطانوی فوج کے آرڈنینس کور میں بطور اہلکار بھرتی ہوئے اور انہیں دیگر فوجیوں کے ہمراہ برما میں جاپانی فورسز سے لڑنے کے لیے بھیجا گیا۔برما میں تعیناتی کے دوران وہ ایک برمی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوئے جس سے ان کی شادی ہوئی اور پھر وہ وطن واپس آئے۔ان کی محبت کی کہانی اور وہ کس طرح اس قصبے میں پہنچے یہ سب چکوال کے ارگرد کے علاقوں میں کافی مقبول ہے جو 2015 میں مظفر کے رشتے داروں، دوستوں اور اس جوڑے نے خود بیان کی۔مظفر خان کو اپنے علاقے میں چاچا کالو کے نام سے جانا جاتا تو ان کی 84 سالہ بیوی عائشہ بی بی کو ماشو کہا جاتا۔چالیس کی دہائی کی یادیں وقت کے ساتھ ساتھ دھندلی پڑتی چلی گئی اور اس جوڑے کے لیے یہ حقیقت ہی باقی بچی کہ شادی کے بعد ان کی کوئی اولاد نہیں ہوئی جبکہ ماشو نے برما میں اپنا گھر بار شوہر کے ساتھ ہندوستان میں رہنے کے لیے قربان کردیا۔ماسی ماشو نے اس وقت بتایا تھا جب ہم لوگ یہاں آئے تو میرے ملک میں جنگ جاری تھی۔چاچا کالو نے کہانی بیان کرتے ہوئے کہا دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی برما میں لڑ رہے تھے اور مجھے وہاں ان سے مقابلے کے ایک مشن کے لیے بھیجا گیا۔ماشو کو یاد ہے کہ وہ وسطی برما کے ایک شہر میکیٹلا میں پلی بڑھی میں ایک بدھ لڑکی تھی اور عبادت کے لیے اپنی ماں کے ہمراہ بدھ مندر جاتی رہتی تھی ۔ماشو نے یہاں آنے کے بعد اسلام قبول کرلیا تھا اور انہیں تو اب اپنا وہ نام یاد بھی نہیں جو برما میں ستر سال پہلے ان کا تھا، عائشہ بی بی کا نام بھی مظفر سے شادی کے موقع پر رکھا گیا تھاجس کے بعد ارگرد کے بچوں نے انہیں ماں عاشو کہنا شروع کردیا جو کہ وقت گزرنے کے ساتھ مختصر ہوکر ماشو کی شکل اختیار کرگیا۔چاچا کالو کا انتقال ہوگیا اور وہ ماشو کو اپنے رشتے داروں و پڑوسیوں کے ساتھ تنہا چھوڑ گئے۔

تازہ ترین خبریں