09:16 am
کہا تو 15لاکھ لوگوں کا تھا مگر آزادی مارچ میں کتنے لاکھ لوگ اسلام آبادآئے ہیں

کہا تو 15لاکھ لوگوں کا تھا مگر آزادی مارچ میں کتنے لاکھ لوگ اسلام آبادآئے ہیں

09:16 am

اسلا م اآباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مولانا فضل الر حمٰن کا آزادی مارچ تیسرے ہفتے میں داخل ہو رہا ہے اور اب مارچ میں شریک رہنمائوں کی تقاریر میں تھوڑی تندی بھی دکھائی دے رہی ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ مولانا اب عمران خان کے استعفے کے مطالبے سے تو پیچھے ہٹ چکے ہیں تاہم ذرائع کے مطابق استعفے کامطالبہ ایک بار پھر کیا جا سکتا ہے اور ڈی چوک کی جانب بھی موو آن کیا جا سکتا ہے ۔ اس حوالے سینئر صحافی غریدہ فاروقی نے نجی ٹی وی چینل میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی آئین کے مطابق ہر شخص کو دھرنے اور احتجاج کا حق ہے اور ہر شخص کو حق ہے کہ وہ وزیر اعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ مانا کہ وزیر اعظم اس کرسی تک تحریک انصاف کے ووٹوں سے پہنچے ہیں تاہم پاکستان میں ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے
کہ وہ مقتدر شخصیات کے استعفے کی بات کر سکے ۔ انہوںنے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2014کے دھرنے میں عمران خان بھی یہی کہا کرتے تھے کہ میں نواز شریف کو اپنا وزیر اعظم نہیں مانتا کیونکہ وہ عوام کو کچھ ڈیلیور نہیں کر سکے تو اب مولانا فضل الرحمٰن بھی آئین کے اسی حق کے تحت اسلام آباد میں موجود ہیں اور ان کے ساتھ عوام کا جمِ غفیر موجود ہے جس کی بات اگر حقیقت پسندانہ انداز میں کی جائے تو ان کی تعداد کم و بیش 3،4لاکھ لوگ موجود ہیں ۔ مولانا نے 15لاکھ لوگ کہے تھے تو 15لاکھ تو نہیں تو چلو تین ، چار لالکھ لوگ تو وہ لے آئے ہیں ۔ ان کا پلان تھا ڈی چوک کی جانب بڑھنے کا تاہم بیچ میں نواز شریف کی ضمانت ہوئی ، پھر مریم کی ضمانت ہوئی تو اس وجہ مولانا کے مارچ پر اس کا اثر پڑا ، دوسری طرف پی پی اور ن لیگ کے کارکنان نے بالکل بھی مارچ میں شرکت نہیں کی جس کی وجہ آزادی مارچ کا جو اثر پڑنا چاہئے تھا وہ نہیں پڑ سکا ۔