10:15 am
نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی ملک سے چلے جائیں گے حکومت اگر ایک سال میں حالات کو قابو میں نہ لا سکی تو عوام کیا کرنے کیلئے مجبور ہو جائے گی

نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی ملک سے چلے جائیں گے حکومت اگر ایک سال میں حالات کو قابو میں نہ لا سکی تو عوام کیا کرنے کیلئے مجبور ہو جائے گی

10:15 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چوہدری اپنے کالم ’’طبی این آر او‘‘ میںلکھتے ہیں کہ ۔۔۔حکومت بھی اب ایسی ہی بے بسی سے گزر رہی ہے‘ یہ لوگ ایک سال میں ملک چلانے کے تمام طریقے آزما چکے ہیں‘ حکومت نے ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کو جیلوں میں پھینک کر بھی دیکھ لیا۔ آئی ایم ایف سے بچنے کی کوشش بھی کر لی‘ پورے ملک پر اندھا دھند ٹیکس لگا کر بھی دیکھ لیا‘ درآمدات بھی بند کر لیں‘ کرنسی کو30فیصد ڈی ویلیو بھی کر لیا‘ دوست ملکوں سے قرضے بھی لے لیے‘ چین‘ سعودی عرب
 
اور یو اے ای کی منت بھی کر لی‘ امریکا کو سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی پیش کش کر کے بھی دیکھ لیا‘ میڈیا کو بھی مرغا بنا کر دیکھ لیا‘ سرمایہ کاروں‘ بزنس مینوں‘ صنعت کاروں اور تاجروں کو بھی نچوڑ کر دیکھ لیا‘ نیب کو کھلی چھٹی دے کر بھی چیک کر لیا۔ کابینہ میں ردوبدل کر کے بھی دیکھ لیا‘ وزیروں کو خودمختاری دے کر بھی چیک کر لیا‘ دیسی وزیر خزانہ بھی آزما لیا اور وزیر خزانہ درآمد کر کے بھی دیکھ لیا‘ آئی ایم ایف سے سٹیٹ بینک کا گورنر ادھار لے کر بھی چیک کر لیا‘ جاگیر داروں کی ساری شرطیں مان کر بھی دیکھ لیا اور رئیل سٹیٹ ٹائی کونز اور بڑے بزنس مینوں کو رعایتیں دے کر بھی دیکھ لیا اور بیورو کریٹس کو دبا کر بھی چیک کر لیا اور انہیں خود مختاری اور اعتماد دے کر بھی آزما لیا مگر ملک کے مسئلے حل نہیں ہو سکے۔ ملک پھنستا اور بگڑتا چلا گیا‘ حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ اب صرف تھوک لگا کر نوٹ گننے کا آپشن بچا ہے اور حکومت اب اس پر کام کررہی ہے‘ یہ آپشن کیا ہے؟۔۔۔۔۔وزیراعظم سے کوئی پوچھے جناب اور این آر او کیا ہوتا ہے؟ آپ 22 سال کہتے رہے میں اقتدار میں آؤں گا اور ان سب کو الٹا لٹکا کر لوٹی ہوئی رقم واپس نکالوں گا لیکن رقم تو دور یہ لوگ خود ہی نکل گئے‘ آپ اگر اپنے قول کے سچے تھے تو پھر آپ نے سمجھوتہ کیوں کیا؟ آپ یہ کہتے تھے یہ لوگ علاج کے نام پر گھروں‘ ہسپتالوں اور لندن میں جا بیٹھتے ہیں جب کہ چھوٹے چور جیلوں میں گھٹ گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ آپ کو اگر اپنے الفاظ کا اتنا ہی پاس تھا تو پھر آپ ڈٹ جاتے‘ آپ پھر رقم کی وصولی تک کسی کو رعایت نہ دیتے مگر حکومت رعایت دینے پر بھی مجبور ہوئی اور یہ اب اپنے ہاتھوں سے ان کا نام ای سی ایل سے بھی نکال رہی ہے‘ کیوں؟ کیوں کہ حکومت اب ان لوگوں کو اپنی پرفارمنس کے راستے کی رکاوٹ سمجھ رہی ہے‘یہ انہیں ہٹانا چاہتی ہے۔آپ ستم ظریفی ملاحظہ کیجیے حکومت کے اپنے ترجمان کہہ رہے ہیں نواز شریف اور زرداری نے مولانا کے دھرنے کا فائدہ اٹھا لیا‘ گویا حکومت خود اعتراف کر رہی ہے یہ مولانا کی وجہ سے ان لوگوں کو طبی این آر او دے رہے ہیں۔ کیا یہ پسپائی یا یہ اعتراف شکست نہیں؟ وزراءیہ بھی کہہ رہے ہیں ہم نے پالیسی سازوں سے درخواست کی آپ ان لوگوں کو باہر جانے دیں تاکہ حکومت کام کر سکے‘ ہم ان کی وجہ سے اپنی وزارتوں پر توجہ نہیں دے پا رہے‘ ہم اگر روز ان کی جلائی ہوئی آگ بجھاتے رہیں گے تو پھر ہمارے پاس کام کے لیے وقت کہاں سے آئے گا؟ یہ لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں نواز شریف اور آصف علی زرداری کے جانے سے ہمارے دم میں دم آئے گا‘ ہم پرفارمنس پر توجہ دے سکیں گے۔ یہ خواجہ برادران‘ رانا ثناءاللہ‘ شاہد خاقان عباسی اور سید خورشید شاہ سے بھی جان چھڑانا چاہتے ہیں‘ یہ سمجھتے ہیں اگر ان میں سے کوئی شخص جیل میں فوت ہو گیا تو وہ پوری حکومت کو لے کر بیٹھ جائے گا چناں چہ یہ ان لوگوں کو بھی ملک سے باہر جانے کا راستہ دینا چاہتے ہیں مگر سوال یہ ہے اگر یہ رکاوٹیں بھی ہٹ گئیں‘ نواز شریف اور آصف علی زرداری بھی ملک سے چلے گئے اور باقی ملزمان کا کانٹا بھی نکل گیا لیکن حکومت اگراس کے باوجود پرفارم نہیں کر پاتی۔ یہ اگر نہیں چل پاتی تو پھر کیا آپشن بچے گا‘ پھر کیا جواز رہ جائے گا‘ پیچھے کیا بہانہ بچ جائے گا؟اگر انگلیوں پر تھوک لگا کربھی نوٹ نہ گنے جا سکے تو پھرہم کیا کریں گے‘ ہم پھر کس کو این آر او دیں گے‘ ہم کس کو مورد الزام ٹھہرائیں گے! آپ لکھ لیجیے ہم ایک سال بعد پھندا لے کر کوئی نئی گردن تلاش کر رہے ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں