01:17 pm
مولانا کا ڈی چوک جانےکا پلان منسوخ، فضل الرحمن نے بدلتے حالات کو سمجھ لیا ، اب کیا فیصلہ کرنے جارہے ہیں، جانئے

مولانا کا ڈی چوک جانےکا پلان منسوخ، فضل الرحمن نے بدلتے حالات کو سمجھ لیا ، اب کیا فیصلہ کرنے جارہے ہیں، جانئے

01:17 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)صحافی غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں مولانا فضل الرحمن کا ڈی چوک کی کی جانب بڑھنے کا ارادہ تھا۔لیکن جب انہوں نے 3 اکتوبر کو یہ اعلان کیا تو اس کے بعد جس طرح سے نواز شریف کی بیماری ناساز ہو گئی۔نواز شریف کی ضمانت ہوئی اس کے بعد مریم نواز کی ضمانت ہوئی،اس کے بعد نواز شریف کو جاتی امرا میں منتقل کر دیا گیا۔ڈاکٹربورڈ کے سربراہ نے بھی کہا کہ ہو سکتا ہے کہ نواز شریف کو ٹیسٹوں کے لیے باہر جانا پڑے،ان تمام حالات نے مولانا فضل الرحمن کے پلان اے پر اثر ڈالا ہے۔پھر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی عدم شرکت نے بھی اثر ڈالا۔کیونکہ مولانا فضل الرحمن کو یقین تھا کہ یہ جماعتیں ان کا ساتھ دیں گی لیکن ایسا نہ ہوا۔ن لیگ کا کوئی کارکن اور رہنما لاہور میں نہ آئے۔اسلام آباد آئے
وہ بھی چند گھنٹوں کے لیے۔خیال رہے کہ 5نومبر کو رہنما جمیعتِ علماء اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے کارکنوں کو ڈی چوک کا نعرہ لگانے سے روک دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہاتھا کہ جب تک ڈی چوک جانے کی پالیسی نہیں بنتی کارکنان ڈی چوک کا نعرہ نہ لگائیں۔ آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ روزانہ کچھ لوگ یہاں آکر ڈی چوک کے نعرے لگاتے ہیں جب تک ڈی چوک کے حوالے سے کوئی پالیسی مرتب نہ ہو، کارکن نعرہ نہ لگائیں، بطورجماعت کارکنان کومستقبل کی پالیسی سے آگاہ کیاجائے گا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مطالبے کےتسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام آبادمیں موجودہیں، کہاجاتاہےاس طرح ہمیشہ لوگ آئیں گے اورمطالبات کریں گےاس طرح تو توروایت بن جائےگی لیکن میں پوچھتاہوں 126 دن کےدھرنے پر کیوں اعتراض نہیں تھا؟ انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام کا ڈرامہ اب مزید نہیں چلے گا، جب تک کشمیر کمیٹی میرے ہاتھ میں تھی کوئی مائی کا لعل کچھ نہیں بگاڑ سکا، آج پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں ہورہی ہیں کب تک حقائق چھپاؤ گے؟ مولانا فضل الرحمان نے ھکومت کا چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اشتعال نہ دلایا جائے ورنہ 24 گھنٹے میں شکست دے دیں گے۔

تازہ ترین خبریں