08:24 pm
سینیٹ  اجلاس: مسئلہ کشمیر پر بحث کے دوران حکومتی وزراء  غائب

سینیٹ اجلاس: مسئلہ کشمیر پر بحث کے دوران حکومتی وزراء غائب

08:24 pm

اسلام آباد( آن لائن )سینیٹ کے اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر پر بحث کے دوران حکومتی وزراء کی عدم موجودگی پر اپوزیشن کا شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ، مسئلہ کشمیر پر بحث کے موقع پر وزیر امور کشمیر اور وزیر خارجہ کی عدم موجودگی حکومت کی عدم دلچسپی کا واضح ثبوت ہے ۔ چئیر مین سینیٹ کی جانب سے وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈہ پور کو اجلاس میں بلانے کے باوجود نہ آنے پر اپوزیشن نے اجلاس کی کاروائی مزید آگے بڑھانے سے انکار کر دیا
جس پر اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔ بدھ کے روز سینیٹ اجلاس کے دوران مسئلہ کشمیر پر بات کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے پاس طویل عرصے سے زیر التواء ہے اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد یہی تھا کہ جن علاقوں کے عوام کو اپنی قسمت کا فیصلہ خود کرنے کا موقع نہیں ملتا ہے اور وہ دوسرے ممالک کی کالونیاں تھا ان علاقوں میں جنگ کو روکنے اور انہیں حق خود ارادیت دینا، مگر بدقسمتی سے اقوام متحدہ نے اپنا کردار ادا نہیں کیا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں 2معاہدے ایسے ہوئے جن کی داخلی سیاست کی بناء پر مخالفت کی گئی اور دنیا میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید یہ معاہدے ان ممالک کے عوام کے خلاف تھے ، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ شملہ معاہدہ کی حمایت کی ہیے بے نظیر بھٹو کے دور حکومت میں شملہ معاہدہ پر مخالفت کرنے والوں کو جواب بھی دیا تھا ، انہوں نے کہا کہ 1972میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شملہ معاہدہ پر دستخط کئے تھے اور اس سلسلے میں یہ تاثر بہت غلط تھا کہ اس معاہدے میں اقوام متحدہ کا کردار ختم کیا گیا ہے اس معاہدے کی بنیاد اقوام متحدہ کے اصولوں پر رکھی گئی تھی انہوں نے کہا کہ شملہ معاہدہ کی وجہ سے اقوام متحدہ کا کردار ختم نہیں ہوا ہے اور بھارت کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا ہے راجہ ظفر الحق نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز کر کے مسئلہ کشمیر حل کرنے کی کوششیں کی اور اس سلسلے میں دفتر خارجہ سے کشمیر کے بارے میں بریفنگ لینے سے بھی انکار کیا تھا انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں تمام قراردادیں متفقہ طور پر اقوام سے منظورہوئی تھیں اور ہندوستان سمیت تمام ممالک نے اس کی تائید کی ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بارے میں قراردادوں پر کانی فیصلے ہوئے ہیں بدقسمتی سے جوں جوں پاکستان کشمیر ہو تا گیا تو بھارت نے کشمیر پر اپنا قبضہ مضبوط بنانا شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے ہائی کورٹ سمیت انڈیا کے سپریم کورٹ نے بھی کشمیر کے حوالے سے ہندوستانی حکومت کے فیصلوں کو مسترد کردیا ہے،مگر اس کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کشمیر کے بارے میں آرٹیکل370 کو ختم کرکے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی کیسے راہیں ہموار کی مگر بدقسمتی سے پاکستان نے اس پر سخت مؤقف نہیں اپنایا اور یہ مؤقف اپنایا ہے کہ آرٹیکل370 کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے،جس کے بعد ہندوستان کی حکومت نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر پر بھی اپنا حق جمایا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت کشمیر کے مسئلے پر بین الاقوامی برادری کو اپنا ہمنوا نہیں بنا سکے ہیں،اس طرح او آئی سی نے بھی اس پر کوئی سرگرمی نہیں دکھائی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم کااتفاق ہے،اب ضرورت اس امر کی ہے کہ دیگر معاملات میں الجھ کر ہندوستان کو مزید شہر نہ دئیے جائیں،اگر ہم اس طرح پیچھے ہٹتے رہے اور جنگ سے بھاگتے رہے تو ہندوستان مزید آگے بڑھے گا،انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں حکومت کو عالمی سطح پر بھرپور آواز اٹھانا ہوگی۔سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ 1947ء میں ہندوستان2حصوں میں تقسیم ہوا مگر کشمیر کا مہاراجا ہندو ہونے کی وجہ سے انہوں نے ہندوستان کے ساتھ ایک معاہدہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر انڈیا اور پاکستان کے اندر2جنگیں لڑی گئیں۔انہوں نے کہا کہ آج کشمیر میںجو صورتحال ہے وہ تشویشناک ہے،گزشتہ100دنوں سے کشمیر میں کرفیو نافذ ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سیکورٹی کونسل کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر آج تک عمل درآمد نہیں کرسکی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بین الاقوامی برادری ہمارے ساتھ کیوں نہیں کھڑی ہے،میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اوپر دہشتگردی کے الزامات لگتے ہیں اور ہمیں سب سے پہلے اس کو ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں کہ کشمیر کمیٹی میں کون کون ہے اور کس نے بنائی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آج تک اپنے اوپر سے دہشتگردی کا لیبل نہیں ہٹا سکے ہیں،جب تک پارلیمنٹ اپنا کردار ادا نہیں کرے گا اور بین الاقوامی سطح پر بات نہیں کرے گا اس وقت تک بین الاقوامی برادری ہمارا ساتھ نہیں دے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم دہشتگردی کی وجہ سے بہت زیادہ نقصان اٹھا چکے ہیں،ہمیں دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ہم دہشتگرد ملک نہیں ہیں۔سینیٹر جہانگریب جمالدینی نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ 90روز سے جاری لاک ڈاؤن اور کرفیو کی شدید مذمت کرتا ہوں تاہم اس سلسلے میں اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر جاری زیادتیوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ جواب دینے کی بھی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے امت مسلمہ میں پاکستان کے مقابلے میں ہندوستان کی اہمیت زیادہ ہے،تمام اقوام کو اپنی جانب راغب کرنے کیلئے ہمیں اقدامات کرنے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر موجود خرابیوں کو بھی دور کرنا ہوگا۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھی کشمیر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار ہے،انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کشمیر کے بارے میں اہم بحث کے موقع پر وفاقی وزیر امور کشمیر موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 100دنوں سے بھارتی فوج کی جانب سے جاری لاک ڈاؤن سے حالات بہت خراب ہوچکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو دنیا کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ امریکن کانگریس کے 50اراکین نے کشمیر کی صورتحال پر امریکی صدر کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے بھارت کا متنازعہ نقشہ بھی جاری کیا ہے اور کشمیر سمیت گلگت بلتستان کو اپنا علاقہ ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا اقوام متحدہ کے منہ پر طمانچہ ہے۔بین الاقوامی برادری یاس صورتحال کا فوری نوٹس لے اور ہندوستانی فوج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت کو ختم کرنے میں اپناکردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم امن کے خواہشمند ہیں مگر ہمیں کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کیلئے تمام بین الاقوامی فورمز پر بات کرنا ہوگی۔اجلاس کے دوران حکومتی وزراء کی عدم مو جودگی پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر جیسے اہم موضوع پر بحث کے دوران حکومتی وزراء خصوصاً امور کشمیر اور خارجہ امور کے وزراء کی عدم موجودگی سے حکومت کی عدم دلچسپی واضح ہوتی ہے۔اس موقع پر اپوزیشن کے شور شرابے پر چیئرپرسن سینیٹر ستارہ ایاز نے اجلاس ملتوی کردیا

تازہ ترین خبریں

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر اتنا رش کیوں رہتا ہے؟  جانیں محسن پاکستان کی قبر پر بسیرا کرنے والا یہ شخص کون ہے؟

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر اتنا رش کیوں رہتا ہے؟ جانیں محسن پاکستان کی قبر پر بسیرا کرنے والا یہ شخص کون ہے؟

وزیراعظم عمران خان 24 اکتوبر کو 3 روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے

وزیراعظم عمران خان 24 اکتوبر کو 3 روزہ دورے پر سعودی عرب جائیں گے

فیصل آباد میں پی ڈی ایم جلسے میںنظر آنیوالی یہ بزرگ ہستی کون ہے؟  مریم نواز بھی جذباتی ہو گئیں، تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

فیصل آباد میں پی ڈی ایم جلسے میںنظر آنیوالی یہ بزرگ ہستی کون ہے؟ مریم نواز بھی جذباتی ہو گئیں، تصویر سوشل میڈیا پر وائرل

مرنے کے بعد محسنِِ پاکستان کا مقام یاد آگیا، وفاقی حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر کیا کرنے جارہی ہے؟ بڑا اعلان کر دیا گیا

مرنے کے بعد محسنِِ پاکستان کا مقام یاد آگیا، وفاقی حکومت ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی قبر پر کیا کرنے جارہی ہے؟ بڑا اعلان کر دیا گیا

پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ، عظمیٰ بخاری نے اپنے ہی کارکن کو تھپڑ کیوں جھڑ دیا؟ وجہ سامنے آگئی

پی ڈی ایم کا فیصل آباد میں جلسہ ، عظمیٰ بخاری نے اپنے ہی کارکن کو تھپڑ کیوں جھڑ دیا؟ وجہ سامنے آگئی

ملک بھر کے بینک بند رہیں گے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نوٹیفیکیشن جاری

ملک بھر کے بینک بند رہیں گے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا نوٹیفیکیشن جاری

پانچ سالوں میں دل نہیں بھرا؟ اگلی حکومت پھر تحریک انصاف کی ہو گی،غریب عوام کو ڈرائونا خواب دکھا دیا گیا

پانچ سالوں میں دل نہیں بھرا؟ اگلی حکومت پھر تحریک انصاف کی ہو گی،غریب عوام کو ڈرائونا خواب دکھا دیا گیا

حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریاں مکمل ، 12ربیع الاول کے بعد کیا ہونیوالاہے؟ناراض حکومتی اراکین بھی اپوزیشن کیساتھ جا مِلے

حکومت کا تختہ الٹنے کی تیاریاں مکمل ، 12ربیع الاول کے بعد کیا ہونیوالاہے؟ناراض حکومتی اراکین بھی اپوزیشن کیساتھ جا مِلے

ڈرون حملے میں بے گناہوں کی اموات، امریکی حکومت نے مرنے والوں کے اہلخانہ کیلئے کروڑوں روپے معاوضے کا اعلان کر دیا

ڈرون حملے میں بے گناہوں کی اموات، امریکی حکومت نے مرنے والوں کے اہلخانہ کیلئے کروڑوں روپے معاوضے کا اعلان کر دیا

مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ؟ خبر نے ملک بھر میں تھر تھلی مچا دی

مہنگائی کنٹرول سے باہر ہونے پر وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ؟ خبر نے ملک بھر میں تھر تھلی مچا دی

گریڈ 1سے 15تک نوکریاں ہی نوکریاں! حکومت نے بیروزگاری جوانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

گریڈ 1سے 15تک نوکریاں ہی نوکریاں! حکومت نے بیروزگاری جوانوں کو بڑی خوشخبری سنا دی

کمر توڑ مہنگائی ، گھی اور تیل کے بعد آٹے کا تھیلا بھی 1500میں دستیاب،غریب دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی مجبور

کمر توڑ مہنگائی ، گھی اور تیل کے بعد آٹے کا تھیلا بھی 1500میں دستیاب،غریب دو وقت کی روٹی کھانے سے بھی مجبور

تنخواہوں میں بھی مزید اضافہ کرنا ہو گا،  حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا اعلان کر دیا

تنخواہوں میں بھی مزید اضافہ کرنا ہو گا، حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑا اعلان کر دیا

اگلے 48گھنٹوں میں کہاں کہاں بارش کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ٹھنڈی ٹھنڈی نوید سنا دی

اگلے 48گھنٹوں میں کہاں کہاں بارش کا امکان ہے؟ محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ٹھنڈی ٹھنڈی نوید سنا دی