05:57 pm
حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالتی، لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس بھیج دیا

حکومت نواز شریف کا نام ای سی ایل سے کیوں نہیں نکالتی، لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس بھیج دیا

05:57 pm

لاہور(نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن نے آج سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام غیر مشروط طور پر ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی تھی۔جسے فوری طور پر سماعت کے لیے مقرر کر لیا گیا تھا۔جسٹس علی باقرنجفی کی سربراہی میں 2رکنی بنچ نے نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی درخواست پر سماعت کی۔لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو نوٹس بھیج دیا ہے۔دورانِ سماعت عدالت نے پوچھا کہ یہ بتائیں نواز شریف کا نام کس نیب بیورو کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا جس کا جواب دیتے ہوئے سرکاری وکیل نے کہا
ابھی دیکھنا ہے کہ نام کس نیب بیورو کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا۔عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ یہ بتائیں جو حکم جاری ہوا وہ کس قانون کے تحت جاری ہوا۔وفاق نے جو حکم جاری کیا اس کا کوئی قانون موجود نہیں۔وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست کو ناقابلِ سماعت قرار دے دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے تحریری جواب طلب کر لیا۔درخواست پر نیب کو بھی نوٹس جاری کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام غیر مشروط پر ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کی قیادت نے حکومت کی ایمندنٹی بانڈز شرط کو مسترد کر دیا۔شہباز شریف کا کہنا ہے کہ حکومت تاوان لینا چاہتی ہے،زر ضمانت کی شرط قبول نہیں۔تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کےصدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رات کو فیصلہ کیا گیا فی الفور عدالت کا دروازہ کھٹکٹھائیں گے۔ مسلم لیگ ن کی وکلاء ٹیم لاہور ہائیکوٹ میں موجود ہے۔نواز شریف کے حوالے سے حکومتی فیصلہ سب کے سامنے ہے،شہباز شریف کا کہنا ہے کہ نواز شریف، میں نے اور میری جماعت نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نہ تو این آر او لے سکتے ہیں اور نہ ہی دے سکتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر بیٹی کے ساتھ پاکستان واپس آئے۔ انہوں نے کہا کہ 6جولائی کو نواز شریف کے خلاف فیصلہ آیا اور 13جولائی کو وہ اپنی بیمار اہلیہ کو چھوڑ کر پاکستان آئے اور جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے،کیا اس وقت بھی بانڈز مانگے گئے تھے۔بانڈر کی صورت میں عوام کو دھوکے کی طرف لے کر جانا چاہتے ہیں کہ ہم نے 7 ارب نکلوا لیے۔یہ بانڈز کی آڑ میں تاوان لینا چاہتے ہیں۔