03:43 pm
وزیراعظم کو بادشاہی مسجد کا نام ’’بابری مسجد ‘‘رکھنے کا مشورہ

وزیراعظم کو بادشاہی مسجد کا نام ’’بابری مسجد ‘‘رکھنے کا مشورہ

03:43 pm

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی توفیق بٹ کا اپنے کالم میں کہنا ہے کہ کرتاپور راہداری کھولنے کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان سکھوں کی روایتی پگڑی پہن لیتے تھے اس سے کم ازکم ہم اس یقین میں لازمی مبتلا ہو جاتے وہ جو فیصلہ کرتے ہیں
اپنی طرف سے ٹھیک کرتے ہیں۔اگلے روز میں نے انہیں مشمورہ دیا کہ جس دلچسپی اور لگن سے انہوں نے کرتاپور راہداری کا منصوبہ مکمل کروایا اس دلچسپی اور لگن سے وہ کرتاپور کے کہیں آس پاس یا پاکستان کے کسی بھی مقام پر ایک خوبصورت مسجد تعمیر کروائیں جس کا نام " بابری مسجد " رکھیں۔اس سے ہندوستان کو بڑی مرچیں لگیں گی۔ہو سکے تو یہ مسجد " بنی گالہ" میں تعمیر کروائیں بلکہ ادا کیا جانے والی نمازوں کی امامت خود کریں۔؎یہ بھی ممکن نہ ہو تو بادشاہی مسجد کا نام تبدیل کرنے بابری مسجد رکھ دیں۔یہ بھی نہ کر سکیں تو بادشاہی مسجد کی حالت ہی ٹھیک کروا دیں۔لاہور میں سیاحوں کی دلچسپی کا حامل یہ تاریخی مقام ہر لحاظ سے برباد ہو چکا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس مسجد کی نگرانی محکمہ اوقاف پنجاب کے بجائے اس علاقے کے ارد گرد رہنے والے لوگوں ے پاس ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل کرتارپور گوردوارے کی سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو ئی تھی جس میں ایک مسلمان شہری کو گوردوارہ کے اندر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو بظاہر ایک سکھ عقیدت مند نے ہی بنائی ہے۔ ویڈیو بنانے والے سکھ شہری کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو دکھایا جائے کہ یہاں کیا ہو رہا ہے ، سکھ شہری نے کہا کہ ایک طرف یہاں پر سکھوں کا پاٹ چل رہا ہے اور دوسری جانب یہاں پر ڈیوٹی پر موجود شہری اپنی شام کی نماز ادا کر رہا ہے۔ یہ وہ محبت اور پیار ہے جو ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے۔