12:06 pm
برطانیہ نے پاکستان کو بڑا جھٹکا دیدیا ، اہم معاہدہ معطل

برطانیہ نے پاکستان کو بڑا جھٹکا دیدیا ، اہم معاہدہ معطل

12:06 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ نے پاکستان کو بڑا جھٹکا دیدیا ، اہم معاہدہ معطل ۔۔۔ حکومتِ برطانیہ نے وزارت قانون کی جانب سے کمزور درخواست اور ملک میں منشیات اسمگلروں کی دی جانے والی سزا کے باعث پاکستان کے ساتھ زیر حراست مجرمان کے تبادلے کا معاہدہ معطل کردیا۔قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی اور ترقی انسانی وسائل کے اجلاس میں وزارت خارجہ کے شعبہ
اوورسیز پاکستانی کے ڈائریکٹر جنرل شوذاب عباس نے بتایا کہ ’چین میں انہی وجوہات کی بنا پر پاکستان کے ساتھ مجرمان کے تبادلے کا معاہدہ کرنے سے گریزاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ پاکستان کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ جاری نہیں رکھنا چاہتا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت برطانیہ چاہتی ہے کہ جو منشیات اسمگلرز برطانیہ میں سزا ہونے کے بعد قید کاٹ رہے ہیں وہ پاکستان منتقلی کے بعد بھی اپنی سزا جیل میں پوری کریں اور پاکستان اسے معطل نہ کرے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی حکومت اس صورت میں معاہدے کی بحالی پر غور کرے گی جب حکومت پاکستان مجرمان کے لیے اسی سزا کے اطلاق پر رضامند ہوجائے گی جو برطانیہ میں دی جاتی ہے۔ شوذاب عباس نے اپریل 2018 کے ایک کیس کی مثال پیش کی جس میں 17 پاکستانی مجرمان تھائی لینڈ سے وطن واپس لائے گئے تھے۔ یہاں آکر تھائی لینڈ سے سزا یافتہ منشیات اسمگلروں نے پاکستانی قوانین کے تحت اپنی سزاؤں میں تخفیف کی درخواست دے دی جس کے بعد سپریم کورٹ نے ان میں 8 مجرمان کو رہا کردیا تھا۔ انہوں نے کمیٹی کو مزید بتایا تھائی لینڈ کے قانون کے مطابق منشیات کے کیس میں مجرم ثابت ہونے والے شخص کو 40 سال قید کی سزا ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں سزا کی مدت کا تعین منشیات کی مقدار پر کیا جاتا ہے اور سزاؤں کی مدت سے 10 سے 25 سال کے درمیان ہوسکتی ہے۔ گزشتہ برس تھائی لینڈ میں حراست میں لیے گئے 88 پاکستانیوں میں سے 60 کو منشیات کے جرم میں سزا ہوئی تھی۔ ان میں سے48 قیدیوں پاکستانی جیلوں میں منتقلی کی شرائط پر پورا اترے جن میں سے 17 مجرمان کو پہلے مرحلے میں پاکستان واپس لانے کے لیے پاکستان نے 35 ہزار ڈالر ادا کیے۔ حکومتی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کو تجویز پیش کی ہے کہ قیدیوں جو سزا دیگر ریاستوں کی جانب سے دی جاتی ہے اس پر مکمل عملدرآمد کروایا جائے۔

تازہ ترین خبریں