05:14 pm
علاج کا حکم دیے تو دیا ، اور کیا کریں ؟ انفرادی مالی امداد اب وزیر اعظم کا اختیار نہیں

علاج کا حکم دیے تو دیا ، اور کیا کریں ؟ انفرادی مالی امداد اب وزیر اعظم کا اختیار نہیں

05:14 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) کینسر کے موذی مرض میں مبتلا سابق ٹیبل ٹینس چیمپیئن مہک انور کراچی میں انتقال کرگئیں اور ان کے علاج کے حوالے سے حکومتی اعلانات اور دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ مہک انور ٹیبل ٹینس کی کھلاڑی تھیں اور سال 2017 میں 24ویں جونیئر اینڈ کیڈٹ ٹیبل ٹینس چیمپیئن شپ میں انہوں نے سندھ کی نمائندگی کی تھی اور انڈر16 چیمپیئن بننے میں کامیاب رہی تھیں۔ اسی سال بعد پتہ چلا تھا
کہ وہ کینسر کے موذی مرض کا شکار ہیں لیکن ان کے والد غربت کے سبب اپنی بیٹی کا علاج کرانے سے قاصر تھے لہٰذا انہوں نے وزیر اعظم سے اپنی بیٹی کا علاج کرانے کی درخواست کی تھی۔ مہک کے والد ایک اسکول میں نائب قاصد ہیں اور کینسر کے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پاکستان کی باصلاحیت ٹینس کی کھلاڑی کے علاج کی درخواست کی تھی۔ سابقہ حکومتی ترجمان فواد چوہدری نے گزشتہ سال 21اگست کو اپنی ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پہلا نوٹس لیتے ہوئے کینسر کے مرض میں مبتلا بچی مہک انور کے علاج کے انتظامات کی ہدایت کی ہے۔ اس ٹوئٹ کے دو دن بعد رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ نے کینسر کے مرض میں مبتلا مہک کے گھر جا کر ان کی تیمارداری کی تھی لیکن وزیر اعظم کا یہ اعلان محض دعوے تک ہی محدود رہا اور حکومت کی جانب سے مستقبل کی اسٹار کے علاج کے لیے کسی بھی قسم کی امداد جاری نہیں کی گئی۔ اس سلسلے میں گزشتہ سال ڈان نیوز کے اسپورٹس رپورٹر عبدالغفار کی جانب سے مہک کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر ڈالی گئی تھی لیکن اس کے جواب میں اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے جواب دیتے ہوئے علاج نہ کرانے کی انوکھی منطق پیش کی تھی۔ انہوں نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'وزیر اعظم اپنے صوابدیدی فنڈز سے پہلے ہی دست بردار ہو چکے ہیں، علاج کا حکم دے چکے ہیں لیکن انفرادی مالی امداد اب وزیر اعظم کا اختیار نہیں۔ اس صورتحال کے بعد قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے مہک انور کے علاج کا بیڑا اٹھانے کا اعلان کرتے ہوئے ان کے والدین کو 5لاکھ روپے کا چیک پیش کیا تھا۔ تاہم ایک عرصے تک اس موذی مرج سے جنگ لڑنے کے بعد مہک انور کراچی میں انتقال کر گئیں اور ان کی تدفین جامعہ ملیہ قبرستان میں کردی گئی۔ اپنی بہن کے انتقال پر غمزدہ مہک انور کی بہن حریم انور نے نے شکوہ کیا کہ حکومت نےعلاج کی یقین دہانی کرانے کے باوجود کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ شاہد آفریدی نے ہماری مدد کرتے ہوئے 5لاکھ روہے کا چیک بھجوایا تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان صاحب کے نوٹس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا اور اپنے بندے بھیج دیے۔ حریم نے بتایا کہ وزیر اعظم کی طرف سے حلیم عادل شیخ صاحب آئے لیکن انہوں نے صرف تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے بعد ہمیں جھوٹی تسلی دی کہ ہم اچھے سے اچھا علاج کرائیں گے تاہم ہم اس کے بعد انہیں کال کرتے رہ گئے لیکن کسی نے جواب تک نہ دیا اور حکومت کی طرف سے ایک روپے کی بھی مدد نہیں کی گئی۔