02:15 pm
میں اپنی کرسی بچانےکے لیے نہیں تبدیلی کےلیے  آیاہوں ڈاکوئوں کامقابلہ کرکے دکھائوں گا

میں اپنی کرسی بچانےکے لیے نہیں تبدیلی کےلیے آیاہوں ڈاکوئوں کامقابلہ کرکے دکھائوں گا

02:15 pm

اسلام آباد(ویب ڈیسک )وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم اورمسلم لیگ ن کے قائدنواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی سےمتعلق کہاہے کہ مریض جہاز دیکھ کرٹھیک ہوا یالندن کی ہوالگنے سے ،اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔میانوالی میں 200بستروں پرمشتمل زچہ وبچہ ہسپتال ،یونیورسٹی آف میانوالی کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی علاج کے لیے بیرون ملک روانگی سے متعلق کہا کہ ’جب میں نے نواز شریف کو جہاز پر چڑھتے دیکھا تو میں نے ڈاکٹروں کی رپورٹس سامنے رکھ لی،
رپورٹ میں لکھا تھا کہ ان کے دل، گردے اور دیگر ساری چیزیں انتہائی خراب حالت میں ہیں اور کسی بھی وقت کچھ ہوسکتا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’میں کبھی نواز شریف کی طبی رپورٹ کو دیکھتا اور کبھی مسلم لیگ (ن) کے قائد کو جہاز پر چڑھتے دیکھتا‘۔عمران خان نے مزید کہا کہ جہاز دیکھ کر مریض ٹھیک ہوا یا لندن کی ہوا لگنے سے، تحقیقات ہونی چاہیےواضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے بعد 19 نومبر کو نواز شریف قطر ایئرویز کی ایئر ایمبولینس کے ذریعے علاج کے لیے لندن روانہ ہوگئے تھے۔عدالت نے شہباز شریف سے سابق وزیراعظم کی واپسی سے متعلق تحریری حلف نامہ طلب کیا تھا اور اس کی بنیاد پر نواز شریف کو 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہماری حکومت کو تاریخی خسارہ ملا جس کی وجہ سے روپے کی قدر 35 فیصد گری۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کرنٹ اکاؤنٹ اور گردشی قرضے کی مد میں بالترتیب ساڑھے 19 ارب ڈالر اور 450 ارب روپے خسارہ ملا۔انہوں نے کہا کہ ملکی خزانے میں ڈالر کی کمی کے باعث جو اشیا برآمد کرتے وہ مہنگی پڑھتی اور اس وجہ سے ملک میں مہنگائی بڑھی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ سے متعلق عمران خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہوتے ہوئے یہودیوں کو سازش کی ضرورت نہیں ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا بھی ایک ہی مقصد تھا کہ عمران خان اپنی حکومت پوری کرے لیکن بس کسی طرح ہمارے اوپر سے یہ کیسز ختم کردے۔انہوں نے کہاکہ اگر کسی کو این آر او دیا تو سب سے بڑی غداری ہوگی۔انہوں نے کہا کہ جب ایک سسٹم کرپٹ ہو جاتا ہے تو ہر ادارے میں مافیا بیٹھ جاتا ہے اور جب آپ تبدیلی لے کر آتے ہیں تو یہ مافیا کھڑا ہوجاتا ہے، تب حکمران کہتا ہے کہ میں اپنی کرسی بچاؤں۔انہوں نے کہا کہ میں اپنی کرسی بچانے کے لیے نہیں آیا بلکہ تبدیلی کے لیے آیا ہوں اور ڈاکوؤں کا مقابلہ کرکے دکھاؤں گا۔