03:27 pm
کابینہ کا ہنگامی اجلاس: آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کی نئی سمری منظور کرلی گئی

کابینہ کا ہنگامی اجلاس: آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع کی نئی سمری منظور کرلی گئی

03:27 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا ہنگامی ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری ارکان کے سامنے پیش کی گئی جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں ڈیفس ایکٹ میں ترمیم منظور کی گئی، اس ترمیم کے تحت ڈیفنس ایکٹ میں لفظ ایکسٹینشن کااضافہ کیا گیا اور پھر آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی نئی سمری تیار کی گئی
جسے کابینہ ارکان کے سامنے پیش کیا گیا۔ وفاقی کابینہ نے پاکستان ڈیفنس سروسز رولز کے آرٹیکل 255 میں ترمیم کی، ترمیم کے ذریعے آرٹیکل 255 میں لفظ ایکسٹینشن کا اضافہ کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا پہلا نوٹیفکیشن واپس لے لیا، نوٹیفکیشن 19 اگست کو وزیراعظم کے دستخط سے جاری ہوا تھا۔ وزیر قانون فروغ نسیم مسعفی، سپریم کورٹ میں جنرل باجوہ کی نمائندگی کریں گے کابینہ کے ہنگامی اجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ وزیر قانون سینیٹر فروغ نسیم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ، وہ کل سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید کی نمائندگی کریں گے۔ شہزاد اکبر نے کہا کہ چونکہ وزیر قانون کے طور پر فروغ نسیم عدالت میں پیش نہیں ہوسکتے تھے اس لیے انہوں نے رضاکارانہ طور پر استعفیٰ دیا، وزیراعظم کی منظوری سے وہ دوبارہ کابینہ میں شامل ہوسکتے ہیں۔ شیخ رشید نے بتایا کہ وزیراعظم نے فروغ نسیم کا استعفیٰ قبول کرلیا ہے، وہ کل اٹارنی جنرل کے ہمراہ سپریم کورٹ میں پیش ہوں گے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ کے آج ہونے والے اجلاس میں بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کا معاملہ چھایا رہا اور اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی گئی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نوٹیفکیشن معطل ہونے پر وزیر قانون فروغ نسیم پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ جب آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ طے ہوچکا تھا تو وزارت قانون نے قانونی لوازمات پورے کیوں نہیں کیے؟ خیال رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکومتی نوٹیفکیشن معطل کردیا ہے جو 19 اگست 2019 کو جاری کیا گیا تھا اور اس کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو 3 سال کی توسیع دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار ہی نہیں یہ تو صدر مملکت کا استحقاق ہے۔