04:50 pm
اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا ایک بار پھر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ

اپوزیشن سیاسی جماعتوں کا ایک بار پھر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ

04:50 pm

اسلام آباد(آن لائن )اپوزیشن سیاسی جماعتوںنے ایک بار پھر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کردیا ہے ،ملک میں فوج کی نگرانی کے بغیر انتخابات کرائے جائیں موجود حکومت نے معاشی طور پر ملک کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے حکومت آصف علی زرداری سمیت مخالف سیاسی قائدین کو علاج و معالجہ کی سہولیات فراہم کرے ۔منگل کے روز اسلام آباد میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس کے بعد جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دیگر قائدین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے
کہاکہ آج اے پی سی میں اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین جمع ہوئے اورملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا انہوں نے کہاکہ تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر اتفاق کیا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی اور آئینی بحران اور عام لوکوں کے مسائل کا حل موجودہ حکومت کا خاتمہ اور شفاف انتخابات ہے جس میں پاک : فوج کا کوئی کردار آئندہ نہیں ہوگا انہوں نے کہاکہ تمام اداروں کو اپنے آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا الیکشن ہمارا ائنیی مطالبہ ہے اس پر کوئی مفاہمت نہیں ہوگی اورچار نکاتی ایجنڈے پر جوجہد جاری رہے گی انہوں نے کہاکہ نہ موجودہ اور نہ آئندہ سلیکٹڈ وزیر اعظم قبول ہوگا ازسرنو شفاف انتخابات ختمی مطالبہ جس پر کوئی مفاہمت نہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی نااہلی کی وجہ سے پورا ڈھانچہ معطل ہوکر رہ گیا انہوں نے کہاکہ اجلاس میں نواز شریف اور آصف زرداری کی بیماری پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن کے ممبران اور چیف الیکشن کمشنرکے ناموں کیلئے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے اسی طرح یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک بھر میں بلدیاتی اداروں کو فی الفور بحال کیا جائے انہوں نے کہاکہ حکومتی وزرائ نے اپنے بیانات سے سی پیک کو متنازعہ بنادیا ہے سی پیک اتھارٹی از سرنو بنائی جائے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اجلاس میں ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے اس موقع پر پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ سابق صدر زرداری کی صحت کافی عرصے سے ناساز ہے مگرحکومت بالکل ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہی ہے، ہم ذاتی معالج کی سابق صدر تک رسائی چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم کیسز کا مطالبہ کررہے ہیں، سابق صدر ضمانت کے لئے رجوع نہیں کررہے ہیں امید ہے جلد ہمارا کیس سپریم کورٹ کے سامنے لگے اور ہمیں انصاف ملے گا اور ہمارا کیس سندھ بھجوایا جائے گاانہوں نے کہاکہ اے پی سی میں شامل تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ نہ اب سلیکٹڈ مانتے ہیں اور نہ ہی آئندہ مانیں گے اگر ہم سلیکٹڈ کو مانیں تو ہمارا احتساب کیا جائے۔ ہم نے پالیسی بیان میں بھی یہ بات کہہ دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان ہاوس تبدیلی ہو یا نئے انتخابات ہم سلیکٹڈ کو نہیں مانیں گے انہوں نے کہاکہ ہماری الیکشن کے حوالے سے ایک شکایت رہی ہے، ہم انتخابات کے لئے تیار ہیں البتہ ہم شفاف انتخابات چاہتے ہیں اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ ہماری پارٹی اور اپوزیشن کے ساتھ متفقہ موقف ہے کہ موجودہ حکومت نے سلامتی کے خطرات پیدا کردیے ہیں ادارتی سطح پر ریاست کو ڈس فنکشنل کردیا ہے جو پاکستان 5.8 پہ آگے بڑھ رہا تھا جسے 2 فیصد پہ لے آئے ہیں انہوں نے کہاکہ یہ نالائق اور اناڑی ہیں جنہیں ملک چلانا تک نہیں آتا ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے مستقبل کی خاطر نیا، آزاد اور منصفانہ الیکشن ضروری ہے آرمی چیف توسیع کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، سرکاری ملازم کے حوالے سے ہمارا موقف واضح ہے ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومت کے ساتھ رابطے ہوتے رہتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ ہم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیںآرمی چیف کی توسیع کے حامی ہیںجس پر مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ یہ معاملہ عدالت میں ہے اورہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ سرکاری ملازم کی توسیع پر بات نہیں کرنا چاہتے ہیں

تازہ ترین خبریں