12:29 pm
چیف جسٹس از خودنوٹس کیخلاف مگر ازخودنوٹس لےلیا،کل چیف جسٹس فرما رہےتھےمیں اس حق میں نہیں کہ اعلیٰ حکام کوعدالت میں بلاؤں کل سب کوبلالیا، سی

چیف جسٹس از خودنوٹس کیخلاف مگر ازخودنوٹس لےلیا،کل چیف جسٹس فرما رہےتھےمیں اس حق میں نہیں کہ اعلیٰ حکام کوعدالت میں بلاؤں کل سب کوبلالیا، سی

12:29 pm


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئرصحافی ارشاد بھٹی نے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر ازخود نوٹس لے کر فیصلے کو معطل کرنے کے بعد کہا ہے کہ کل چیف جسٹس نے کہا کہ وہ اعلیٰ حکام کوعدالت میں بلانے کے حق میں نہیں اور آج انہوں نے سب کوبلا لیا۔سینئیر صحافی نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ چیف جسٹس ازخودنوٹس کے خلاف ہیں لیکن آرمی چیف سے متعلق درخواست گذار کی جانب سے درخواست واپس لینے کے باوجود انہوں نے ازخودنوٹس لے لیا۔
 
انہوں نے کہا ہے کہ مجھےاپنی عدالتوں پر اعتبار ہے اور مجھے میری عدالتوں پر یقین ہے کہ وہ آزاد ہیں آج کے فیصلے کے بعد ایسے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ آج سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کی درخواست پر ازخود نوٹس لے لیا جس کے بعد سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کانوٹیفکیشن معطل کرنے کاتحریری فیصلہ جاری کردیا،فیصلہ چیف جسٹس نے خود تحریرکیا،چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آئین اور ملٹری رولز میں توسیع کی کوئی گنجائش ہی نہیں،آرمی چیف کی ٹرم کی توسیع فکس کیسے کرسکتے ہیں؟یہ اندازہ کیسے لگایا گیا کہ 3سال تک ہنگامی حالات رہیں گے؟فیصلہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریرکیا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین اور ملٹری رولز میں توسیع کی کوئی گنجائش ہی نہیں،آرمی چیف کی ٹرم کی توسیع فکس کیسے کرسکتے ہیں؟یہ اندازہ کیسے لگایا گیا کہ 3سال تک ہنگامی حالات رہیں گے؟ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دوسرے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے ہیں۔ چیف جسٹس نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا تحریری فیصلہ خود تحریر کیا انہوں نے کہا کہ ہاتھ سے لکھی درخواست کے ساتھ کوئی بیان حلفی نہیں لگایا گیا،صدر مملکت نے 19اگست کو نوٹیفکیشن جاری کیا، جبکہ وزیراعظم نے 21اگست کو منظوری دی۔کیا صدر مملکت نے کابینہ کی منظوری سے توسیع کی منظوری دی؟کیا کابینہ کی منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی؟ 25رکنی کابینہ میں سے صرف 11نے توسیع کے حق میں رائے دی۔ 14ارکان کی عدم موجودگی کے باجود منظوری دی گئی۔جمہوریت میں فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔

تازہ ترین خبریں