02:20 pm
آرمی چیف کیس :ڈگریاں چیک کروائی جائیں ۔۔ سپریم کورٹ پاکستان نے صدر اور وزیر اعظم کے حوالے سے کیا اہم ترین بات کہہ دی ، جانیں

آرمی چیف کیس :ڈگریاں چیک کروائی جائیں ۔۔ سپریم کورٹ پاکستان نے صدر اور وزیر اعظم کے حوالے سے کیا اہم ترین بات کہہ دی ، جانیں

02:20 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آج سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل تین رکنی بنچ کر رہا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے جب وہ اسٹاف کا حصہ ہی نہیں ہوں گے۔ اسٹاف کا لفظ اسی لیے استعمال کیا جاتا ہے ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹاف کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
چیف جسٹس نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا کوئی ریٹائرڈ افسر دوبارہ تعینات ہو سکتا ہے؟۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جب تک کمانڈ دوسرے جنرل کے سپرد نہیں ہو جاتا تب تک ریٹائرڈ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزارت قانون کیا ایسے قانون بناتی ہے؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر کو ایسے تعینات نہیں کیا جاتا جیسے آپ آرمی چیف کو تعینات کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے آرمی چیف کو شٹل کاک بنا دیا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر آرمی چیف کی توسیع نہ ہوئی تو اداراہ سربراہ سے محروم ہو جائے گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ بصورت دیگر ہم نے آئین کا حلف اٹھایا ہے اور ہم آئینی ڈیوٹی پوری کریں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی چیف کی مدت کےحوالے سے قانون خاموش ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ فروغ نسیم صاحب آپ اپنا مسئلہ حل کر کے آئیں۔ صدر و وزیراعظم کو ایڈوائس اور نونٹیفیکیشن جاری جرنے والوں کی ڈگریاں چیک کرائیں۔چیف جسٹس نے فروغ نسیم سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ ہو آپ کے مختار نامے پر سارا دن گزر جائے۔ہم سائید ایشو پر دن نہیں گزار سکتے۔ایسا نہ ہو کہ آپ کے وکالت نامے کے چکر میں نقصان فوج کا ہو۔فروغ نسیم نے بتایا کہ میرا لائنسس بحال ہے۔چیف جسٹس نے کہا افواج باعزت ادارے کے حوالے سے معاشرے میں پہنچانا جاتا ہے۔

تازہ ترین خبریں