04:46 pm
آرمی چیف مدت ملازمت توسیع کیس، حکومت کو  آج تک حل نکالنے کا حکم

آرمی چیف مدت ملازمت توسیع کیس، حکومت کو آج تک حل نکالنے کا حکم

04:46 pm

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت توسیع کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اہم ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بہت سارے قواعد خاموش ہیں اور کچھ روایات بن گئی ہیں، ماضی میں 6 سے 7 جنرل توسیع لیتے رہے کسی نے پوچھا تک نہیں، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کرلیتے ہیں، آرمی چیف کے معاملے میں جو سمری پیش کی گئی ہے اس میں ایسی غلطیاں کی گئی ہیں کہ ہمیں تقرری کو کالعدم قراردینا ہوگا
آج تک حل نکالیں ورنہ ہم اپنی ڈیوٹی پوری کرینگے چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس مظہر عالم اور جسٹس منصور علی شاہ پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار ریاض حنیف راہی عدالت میں پیش ہوئے۔اس موقع پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ریاض حنیف راہی صاحب آپ کل تشریف نہیں لائے کہاں رہ گئے تھے، آپ کی درخواست ہم نے زندہ رکھی، جس کے جواب میں درخواست گزار ریاض حنیف راہی نے کہا کہ حالات مختلف پیدا ہو گئے ہیں، چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس موقع پر کہا کہ ہم انہی حالات میں آگے بڑھ رہے ہیں،آپ تشریف رکھیں،چیف جسٹس نے اس موقع پر واضح کیا کہ میڈیا پر اس کیس کو ازخود نوٹس کہا گیا یہ ازخود نوٹس نہیں ہے بلکہ ہم اس درخواست پر سماعت کر رہے ہیں، اٹارنی جنرل انورمنصور بھی عدالت میں پیش ہوئے، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہم نے کل چند سوالات اٹھائے تھے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں کچھ وضاحت پیش کرنا چاہتا ہوں، کل کے عدالتی حکم میں بعض غلطیاں ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ صرف 11 ارکان نے کابینہ میں توسیع کی منظوری دی، کابینہ سے متعلق نقطہ اہم ہے ا س لیے اس پربات کروں گا، رول 19 کے مطابق جواب نہ آنے کا مطلب ہاں ہے، حکومت نے کہیں بھی نہیں کہا کہ ان سے غلطی ہوئی،سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جن غلطیوں کی نشاندہی کی حکومت نے انہیں درست کرلیا، خامیاں تسلیم کرنے کے بعد ان کی تصحیح کی گئی، اس موقع پر پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے ان غلطیوں کو تسلیم نہیں کیا، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ خامیاں تسلیم نہیں کی گئیں تو تصحیح کیوں کی گئی؟ کل کیے گئے اقدامات سے متعلق بتایا جائے،اٹارنی جنرل نے کابینہ فیصلوں سے متعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرائیں، سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ توسیع سے متعلق قانون نہ ہونے کا تاثر غلط ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ فیصلہ کل پیش کی گئی دستاویز کے مطابق ہی لکھوایا تھا، ٹھیک ہے پھر ہم کل والی صورتحال پر ہی فیصلہ دے دیتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا عدالت پہلے مجھے تفصیل کے ساتھ سن لے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ کیا ریٹائرڈ جنرل بھی آرمی چیف بن سکتا ہے؟ اٹارنی جنرل نے کہا آرمی ایکٹ کے سیکشن 176 کے تحت ترمیم کی، دستاویز میں غیر حاضر کابینہ ارکان کے سامنے انتظار لکھا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا عدالت نے آپ کی دستاویز کو دیکھ کر حکم لکھا تھا،سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آرمی چیف کی توسیع کا معاملہ بہت اہم ہے، اس معاملے پر قانونی نکات خاموش ہیں، ماضی میں جرنیلوں نے کئی کئی سال توسیع لی، ازسرنو اور توسیع سے متعلق قانون دکھائیں جس پر عمل کیا گیا، اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اپنے دلائل مکمل کر کے عدالتی سوالوں کا جواب دوں گا، آرمی ریگولیشن کی کتاب مارکیٹ میں نہیں ملتی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ اب سوال اٹھایا ہے تو جائزہ لینے دیں۔سماعت کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرمی چیف کی 3 سال مدت کہاں مقررکی گئی ہے؟ آپ نے آج بھی ہمیں آرمی ریگولیشنزکا مکمل مسودہ نہیں دیا،اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ جوصفحات آپ نے دیئے وہ نوکری سے نکالنے کے حوالے سے ہیں،آرمی ریگولیشنزکے مطابق ریٹائرڈکرکے افسران کوسزادی جاسکتی ہے،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ حال ہی میں 3سینئرافسران کی ریٹائرمنٹ معطل کرکے سزادی گئی،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کابینہ کے ارکان کے مقررہ وقت تک جواب نہیں دیا گیا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ آرمی سروس رولز میں تو یہ بھی نہیں لکھا کہ آرمی چیف کا فوج سے ہونا ضروری ہے اس طرح تو آپ کو بھی آرمی چیف لگایا جاسکتا ہے،چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ میں کتنا وقت باقی ہے جس پر انہیں بتایا گیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کل رات ختم ہورہی ہے جس پر جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ پھر تو ہمیں جلد فیصلہ دینا ہوگا تاکہ فوج کو یہ معلوم ہوکہ 29نومبر کو فوج کا سربراہ کون ہوگا؟ سماعت جمعرات تک کے لئے ملتوی کر دی گئی، اٹارنی جنرل اپنے دلائل جاری رکھیں گے، ان کے بعد عدالت آرمی چیف کے وکیل فروغ نسیم کو دلائل کی اجازت دینے یا نہ دینے بارے فیصلہ کرے گی کیونکہ پاکستان بار کونسل نے فروغ نسیم پر لائسنس معطلی کا اعتراض کیا ہے جس کا عدالت جائزہ لے گی۔

تازہ ترین خبریں