05:31 pm
آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کے حامی نہیں تھے،ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے، حامد میر نے بڑادعویٰ کردیا

آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع کے حامی نہیں تھے،ساری صورتحال کا ذمہ دار کون ہے، حامد میر نے بڑادعویٰ کردیا

05:31 pm

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئےسینئرصحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ نوٹیفکیشن معطلی کی وجہ طریقہ کار کی غلطی تھی۔ کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں دوبارہ سمری جاری کر کہ اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے۔یہ معاملہ سپریم کورٹ اور وزیراعظم کے درمیان آچکا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ذاتی طور پر مدت ملازمت میں توسیع کے حامی نہیں تھے ۔جن لوگوں نے آرمی چیف کو توسیع دی، ان لوگوں نے ہی نوٹیفکیشن میں غلطیاں کی ۔ ہوسکتا ہے عدالت میں سوال اٹھا دیا جائے کہ کیا ایک آدمی کو مدنظر رکھ کر قانون سازی کی جاسکتی ہے؟ اگر فروغ نسیم تسلی بخش جواب دینے میں کامیاب ہو گئے تو عدالت موقف تسلیم کرلے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن معطل کر دیاتھا۔تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق دائر درخواست پر سماعت آج بھی جاری ہے۔ خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق درخواست پر سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے قانون کو دیکھیں گے، ہمارے لیے شخصیت نہیں قانون اہم ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ قانون اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے کہ توڑنا پڑے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے قانون سے دلائل کا آغاز کریں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت میں ملٹری قانون کی کتاب دی ہے۔ ایکٹ آف سروس کی تعریف پڑھنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی 1975 کے کنونشن کے تحت ہے۔آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی سے متعلق عدالت کو مطمئن کروں گا۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ایکٹ کے سیکشن 8 کی ذیلی شق 2 کے بارے میں بتائیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جنرل قوم کا افسر ہوتا ہے۔ عدالت میں تعیناتی کی دیگر مثالیں بھی پیش کروں گا۔قانون کو اتنا سخت نہیں ہونا چاہیے کہ اس میں کوئی لچک نہ ہو۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ اور رولز کا شق وار جائزہ لیتے ہیں۔تاکہ آرمی چیف کی تقرری اور توسیع کے قانون کی روح سمجھ سکیں۔ درخواستگزار نے اپنی درخواست کی واپسی کا بھی مطالبہ کیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اب معاملہ عدالت میں ہے ، آپ بیٹھنا چاہیں تو آپ کی مرضی ، نہیں بیٹھنا چاہتے تو بھی آپ کی مرضی ہے۔ سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت میں آدھے گھنٹے کا وقفہ لیا گیا ہے جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع کی جائے گی۔