09:29 am
چیف جسٹس پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے بڑا حکم دیدیا

چیف جسٹس پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے بڑا حکم دیدیا

09:29 am

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی عدالت عظمی نے ملک کی برّی فوج کے سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ازخود نوٹس پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ آرمی چیف کی تقرری کے نئے حکم نامے سے مدت کا ذکر نکال دیا جائے اور نیا نوٹیفیکیشن آج ہی عدالت کے سامنے پیش کیا جائے. اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر میاں خیل پر مشتمل تین رکنی بینچ کر رہا ہے۔خیال رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 29 نومبر کو ریٹائر ہونا ہے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ان کی ریٹائرمنٹ سے تین ماہ قبل ہی انھیں تین برس کے لیے توسیع دینے کا اعلان کیا تھا.
 
جمعرات کو جب اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سابق فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں توسیع اور ان کی جگہ لینے والے جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ سے متعلق دستاویزات طلب کیں‘سماعت کے دوران چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ’ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل کیانی کو کن شرائط پر توسیع ملی تھی. چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمیں بتایا گیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر جنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پینشن بھی نہیں ہوتی، تو جنرل راحیل کی دستاویزات دیکھنا چاہتے ہیں کہ ان پر کیا لکھا ہے اور اگر وہ ریٹائر نہیں ہوئے تو ان کو پینشن مل رہی ہے یا نہیں. سماعت کے دوبارہ آغاز پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہوجاتا ہے جس پر بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کل تو آپ کہہ رہے تھے جرنیل ریٹائر نہیں ہوتا.چیف جسٹس نے کہا کہ اس سمری میں عدالتی کارروائی کا ذکر کیا گیا ہے اور حکومت کو چاہیے کہ اپنا بوجھ خود اٹھائے، ہمارا کندھا استعمال نہ کرے‘ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ نئی سمری سے عدالت کا نام نکالا جائے. جسٹس آصف سعید کھوسہ نے یہ بھی کہا کہ آرمی چیف کا عہدہ آئینی ہے اور اس عہدے کو قاعدے اور ضابطے کے تحت پر کیا جانا چاہیے‘چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ نے پہلی دفعہ کوشش کی ہے کہ آئین پر واپس آئیں.