09:58 am
نوٹی فیکیشن کی معطلی ، بات وزیر اعظم عمران خان کے استعفے تک جا پہنچی

نوٹی فیکیشن کی معطلی ، بات وزیر اعظم عمران خان کے استعفے تک جا پہنچی

09:58 am

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) دو روز قبل سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا جس کے بعد ملک میں ایک بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گی۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے جاری نوٹیفیکیشن میں کوتاہیوں کی وجہ سے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے حکومت پر بھی سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں پیدا ہونے والے بحران کے ذمہ دار وزیراعظم ہیں انہیں اپنی نا اہلی کی وجہ سے مستعفی ہو جانا چاہئیے
 
۔جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا پارلیمان کو چاہئیے کہ وہ وزیراعظم عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرف کر دے،جب کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا تنویر نے کہا ہے ملک میں پیدا ہونے والے بحران کے بعد پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد آنی چاہئیے۔ جب کہ سپریم کورٹ کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے نوٹیفکیشن معطی پر سوال کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کار جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ یہ سب کام بیورو کریسی کے کرنے کے ہیں۔اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں اس سے لا علم ہوتے ہیں۔نجی ٹی شومیں اینکر نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازت میں توسیع پر حالیہ صورتحال سے فوج میں کیا پیغام جائے گا، جس پر جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا کہ یہ فوج کے کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حالیہ صورتحال کے ذمہ داروں کا محاصرہ ہونا چاہیے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع پر مشروط رضامندی ظاہر کر دی ۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نے کہا ہے قانونی سازی کیلئے 3 ماہ چاہئیں، ہم 3 ماہ کےلئے اس کی توسیع کردیتے ہیں۔