10:10 am
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری میں اتنی غلطیاں ہیں کہ دیکھ کر لگتا ہے وزارت قانون نے بہت محنت سے معاملہ خراب گیا، چیف جسٹس اہم نکات

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری میں اتنی غلطیاں ہیں کہ دیکھ کر لگتا ہے وزارت قانون نے بہت محنت سے معاملہ خراب گیا، چیف جسٹس اہم نکات

10:10 am


اسلام آباد (نیوز ڈیسک)چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیف آف آرمی سٹاف کی مدتِ ملازمت کے حوالے سے درخواست کیس سماعت کرتے ہوئے رہمارکس دیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے نئی تقرری کی سفارش کی اور صدر نے توسیع دی، کیا لکھا ہےاور کیا بھیج رہےہیں؟ یہ بھی پڑھنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ سمری، ایڈوائس، نوٹی فکیشن جس طرح بنائے لگتا ہے وزارتِ قانون نے بہت محنت سے یہ معاملہ خراب کیا ہے،
 
مدت ملازمت میں توسیع کی سمری میں اِتنی غلطیاں ہیں کہ تقرری فوراََ کالعدم قرار دے سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہےحکومت دیکھے کہ وہ کیاکررہی ہے؟حکومت کل تک حل نکالےبصورت دیگرہم نےآئین کاحلف اُٹھایا ہے،آئینی ذمہ داری پوری کریں گے۔ اُنہوں نے کہا یہ معاملہ چیف آف آرمی سروس کا نہیں بلکہ چیف آف آرمی سٹاف کا ہے،آرمی چیف کے ساتھ تو اس طرح نہ کریں۔چیف جسٹس نے کہا کہ مطلب کسی پلٹون یا آرمی کے یونٹ کی قیادت کرنے والے کو کمانڈنگ آفیسر کہتے ہیں،دستاویز کے مطابق جونیئر کمیشنڈ آفیسر کا مطلب لکھا ہے کہ وہ جونیئر کمیشنڈ افسر ہے۔وہ جو کہتے ہیں کہ آرمی میں کمیشن مل گیا ، اس کا مطلب کوئی ڈیوٹی اسائن کرنا ہوتی ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ابہام نہیں کہ وزیراعظم کسی کو بھی آرمی چیف مقرر کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نےکہا کہ اس معاملے کو جو ڈیل کرتے ہیں انہیں سمجھ آتی ہے ہمیں سمجھنا پڑتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹاف کا مطلب شاید آرمی میں کام کرنے والے تمام لوگ ہیں۔انہوں نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ ہم آفیسرز کے لفظ کی تشریح چاہ رہے ہیں جس پر آپ انحصار کر رہے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اسٹاف کا سربراہ حاضر سروس شخص ہی ہو سکتا ہے، آپ نے افسران کو الگ الگ کیا ہے لیکن مقرر کرنے کی شرائط وہی ہیں جو دیگر افسران کی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا انحصار سیکشن 255 پر ہے جو آرمی افسر کے لیے ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اٹارنی جنرل سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ بتائیں کہ آرمی ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ اچھے افسر کو مدت ملازمت میں توسیع دی جائے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ رولز 176 میں یہ چیزیں بتائی گئی ہیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 176 تو صرف رولز ہیں، اچھا کام کرنے والے افسران کی مدت میں توسیع کا تو ذکر ہی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ اچھی کارکردگی والے افسر کو کس قانون کے تحت عہدے پر برقرار رکھا جاتا ہے ؟ ابھی تک آپ نے آرمی ایکٹ اینڈ ریگولیشن میں کوئی ایسی شق نہیں بتائی جو توسیع سے متعلق ہو۔سپریم کورٹ میں کیس کی مزید سماعت فی الوقت جاری ہے۔