10:55 am
آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ، بھارتی میڈیا جشن منانے لگا

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ، بھارتی میڈیا جشن منانے لگا

10:55 am

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)باجوہ ڈاکٹرائن سے پریشان بھارتی حکومت اور میڈیا آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ سپریم کورٹ میں جانے پر خوشی کے شادیانے بجانے لگا۔آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نےتعیناتی کے بعد کچھ اہداف مقرر کیے جو باجوہ ڈاکٹرائن کہلائے۔ اس ڈاکٹرائن کے تحت سیکیورٹی پالیسی دوبارہ تشکیل دینے کیلئے اقدامات کیے گئے، جنرل باجوہ نےسعودی عرب،
 
ایران، قطر اور امریکا سے دوستی کے رشتےمیں رکاوٹیں دور کیں۔اس ڈاکٹرائن کے تحت جوابی نہیں پیشگی کارروائی کی بنیاد پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے فروری 2017 میں آپریشن ردالفساد کا آغاز ہوا، آپریشن ردالفساد کے بڑے اہداف میں ملک سے دہشتگردوں کے سلیپر سیلز اور سہولت کاروں کا خاتمہ بھی شامل تھا۔گذشتہ روز سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا جس کے بعد ملک میں صورتحال یک دم تبدیل ہو گئی۔تاہم یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری صورتحال میں فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع اور اس پر عدالتی فیصلہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے پھر اس پر عالمی قوتیں خاص طور پر بھارت کیوں خوش ہو رہا ہے۔یہ بات دنیا پر واضح ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھارت کو خاصے کھٹکتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف کا ایک پیج پر ہونا بھی بھارت کو ناگوار گزرتا ہے جنرل قمر جاوید باجوہ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کچھ اہداف مقرر کیے جو " باجوہ ڈاکٹرائن" کہلائے۔باجوہ ڈاکٹرائن سے پریشان بھارت اور اس کا میڈیا اس تمام صورتحال میں شادیانے بجانے لگا۔اسی ڈاکٹرائن کے تحت سیکیورٹی پالیسی دوبارہ تشکیل دینے کے لیے اقدامات ہوئے۔جوابی نہیں پیشگی کاروائی کی بنیاد پر دہشت گردی خاتمے کے لیے فروری 2017ء میں آپریشن رد الفساد کا آغاز کیا۔آپریشن رد الفساد کے بڑی اہداف میں ملک سے د ہشت گردوں کے سیلپر سیلز سہولت کاروں کا خاتمہ کیا،جنرل باجوہ نے سعودی عرب،امریکا،قطر سے دوستی کے رشتے میں رکاوٹیں دور کیں۔یہ بات کہیں تو غلط نہ ہو گا کہ باجوہ ڈاکٹرئن نے پاکستان کو گھمبیر صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا۔ باجوہ ڈاکٹرائن پاکستان کو دنیا میں پر امن اور مستحکم ملک بنانے کا خواہاں تھا۔باجوہ ڈاکٹرائن نے یہ بھی واضح کی ہے کہ پاکستان اپنے مغربی بارڈر پر امن چاہتا ہے۔ جنرل باجوہ نے گزشتہ تھوڑے ہی عرصے میں بھرپور انداز میں سعودی عرب،قطر اور امریکا کے ساتھ گہری دوستی کے رشتے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی۔ان میں اکثر رکاوٹیں نواز حکومت کی مخالفت کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔باجوہ ڈاکٹرائن علاقائی امن کے لئے بھی کوشاں ہے۔اس حوالے سے سہیل وڑائچ نے اپنے آرٹیکل میں یہ بھی لکھا تھا کہ باجوہ ڈاکٹرائن پڑوسیوں میں نفرت پھیلاکر انہیں عدم استحکام سے دوچار کرنے پر یقین نہیں رکھتابلکہ پاکستان کو دنیا میں ایک مستحکم اورپر امن ملک کے طور پر پہچانے جانے کا خواہاں ہے۔ جب کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ باجوہ ڈاکٹرائن کا مطلب صرف ایک ہے اور وہ ہے پرُ امن پاکستان ہے۔پاکستان کو امن کی طرف لے جانا سب پاکستانیوں کی خواہش ہے۔