11:17 am
’را‘ اور ’ سی آئی اے‘ کے ایجنٹ!

’را‘ اور ’ سی آئی اے‘ کے ایجنٹ!

11:17 am


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ آف پاکستان میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس زیر سماعت ہے جس پر آج عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا ۔ عدالت کے مطابق کیس کا مختصر فیصلہ آج سہ پہر سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں آج ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے اہم ریمارکس سامنے آئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو ہمیں را اور سی آئی اے کا ایجنٹ کہا گیا۔ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ قرار دیا گیا۔ جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت میں مؤقف دیا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اُٹھایا گیا۔ اٹارنی جنرل کی اس دلیل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ سوال پوچھنا ہمارا حق ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دئے کہ اٹارنی جنرل نے بھی کل پہلی مرتبہ آرمی قوانین پڑھے ہوں گے۔
 
آپ تجویز کریں کہ آرمی ایکٹ کو کس طرح درست کیا جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت کہا کہ آپ نے پہلی مرتبہ کوشش کی ہے کہ آئین پرواپس آئیں ، جو چیز آئین وقانون کے مطابق ہو توہمارےہاتھ بھی بندھ جاتےہیں، لیکن سمری میں سپریم کورٹ کا ریفرنس ہمیں نہیں چاہیے، معاملے میں جوبات کھٹک رہی ہےوہ 3 سال کی مدت ہے، آئین کے آرٹیکل 243 میں ایسا کچھ نہیں لکھا ہے ، آج ہم نے توسیع کردی تو 3 سال کی مدت پرمہرلگ جائے گی۔ سپریم کورٹ نے آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق مشروط منظوری بھی دی اور فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل کو چار نکات پر مشتمل بیان بھی عدالت میں جمع کروانے کی ہدایت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سمری سے عدالت کا ذکر ختم کیا جائے، سمری میں مدت ملازمت کا تعین ختم کیا جائے، تنخواہ اور مراعات کے حوالے سےتصحیح کی جائے اور ماہ میں پارلیمنٹ سےقانون سازی کی یقین دہانی کروائی جائے۔